سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 284 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 284

۲۸۴ کی سزا اس صورت میں ہوگی کہ موت کے بعد گندے لوگوں کو ایک ایسی جگہ میں رکھا جائے گا جس کے اندر اور جس کے چاروں طرف خطر ناک آگ کے شعلے بلند ہوں گے جس کا ایندھن پتھروں اور گندھک کی قسم کے آتشیں مادوں سے تیار کیا جائے گا اور طرح طرح کے زہریلے اور موذی جانورانسان پر حملہ کر کے اسے کاٹیں گے اور کھانے پینے کے لئے اسے کڑوی اور تکلیف دہ چیزیں دی جائیں گی اور اسی حالت میں اچھے لوگ جنت میں اور خراب لوگ دوزخ میں ہمیشہ کے لئے زندگی گزاریں گے۔یہ وہ نقشہ ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں جنت و دوزخ کے متعلق جگہ پائے ہوئے تھا۔حضرت مسیح موعود نے خدا سے علم پا کر بتایا کہ بے شک قرآن وحدیث میں بظاہر ایسے الفاظ پائے جاتے ہیں جو فی الجملہ اس نقشہ کے مؤید ہیں لیکن یہ نقشہ جنت و دوزخ کی اصلی تصویر نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ صرف بطور استعارہ استعمال کئے گئے ہیں جن کے پیچھے ایک اور حقیقت مخفی ہے۔اسی لئے جہاں ایک طرف قرآن شریف نے جنت و دوزخ کی تمثیل میں اس قسم کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں وہاں قرآن شریف تاکید اور صراحت کے ساتھ یہ بھی فرماتا ہے کہ لَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ اے یعنی کوئی انسان نہیں جانتا کہ اگلے جہان میں نیک لوگوں کے لئے کیا کچھ آنکھ کی ٹھنڈک کا سامان مخفی رکھا گیا ہے۔اور حدیث میں آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ے یعنی جنت کی نعمتیں وہ ہیں کہ نہ انہیں کبھی کسی انسان کی آنکھ نے دیکھا نہ کسی انسان کے کانوں نے ان کا حال سنا اور نہ کبھی کسی انسان کے دل میں ان کا تصور گذرا۔اس سے ظاہر ہے کہ جو نقشہ قرآن شریف اور حدیث میں آخرت کی زندگی کا بتایا گیا ہے وہ ایک محض تمثیلی نقشہ ہے اور بیان کردہ الفاظ کوظاہر پرمحمول کرنا درست نہیں۔کیونکہ اگر یہ درست ہے کہ جنت میں یہی ظاہری نہریں اور یہی ظاہری پھل ہوں گے تو پھر یہ بیان غلط قرار پاتا ہے کہ جنت کی نعمتوں کو نہ کبھی کسی نے دیکھا نہ سنا اور نہ کبھی کسی کے دل میں ان کا تصور آیا۔پس حضرت مسیح موعود نے السجدة : ١٨ ابن ماجه ابواب الزهد باب صفة الجنة