سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 281 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 281

۲۸۱ دے اور اس کی تہ میں خدا کا ہاتھ نظر آئے۔دوم یہ کہ اس میں کوئی بات ایسی نہ ہو جو نبی کی سچائی کو روز روشن کی طرح ظاہر کر دے اور تاریکی کا کوئی پہلو بھی باقی نہ رہے بلکہ اس کا کوئی نہ کوئی پہلو ایسا رہنا چاہئے کہ ایک شخص جو اسے صحیح اور کھلی ہوئی نظر کے ساتھ دیکھنے کے لئے تیار نہیں شک میں مبتلا ر ہے۔سوم یہ کہ اس میں کوئی بات خدا تعالیٰ کی سنت اور وعدہ کے خلاف نہ ہو۔یہ شرائط ایسی معقول اور قرآن وحدیث کے ایسی مطابق تھیں کہ انہوں نے اس پیچیدہ مسئلہ پر گویا ایک سورج چڑھا دیا اور ان دونوں قسم کے لوگوں کا منہ بند کر دیا جن میں سے ایک تو نئی روشنی سے متاثر ہوکر معجزات کے وجود سے بالکل ہی منکر ہو رہا ہے اور دوسرا ہر قسم کے فرضی اور خلاف عقل اور خلاف سنت معجزات کو سچ سمجھ کر سینہ سے لگائے بیٹھا ہے اور بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ دونوں قسم کے گروہ مسلمانوں میں کثرت کے ساتھ پائے جاتے ہیں یعنی ایک گروہ وہ ہے جو معجزات کے معاملہ میں ہر قسم کے رطب و یابس کے ذخیرہ کو سچا سمجھ رہا ہے اور اس گروہ کے لئے معجزہ کی کوئی حدود نہیں اور دوسرا گروہ وہ ہے جو دہریت کے مخفی اثر کے نیچے آکر معجزہ کے وجود سے ہی منکر ہو گیا ہے اور صرف خشک فلسفیانہ باتوں پر دین کی بنیا د رکھتا ہے حضرت مسیح موعود نے ان دونوں گروہوں کی تردید فرما کر ایک نہایت سچا اور وسطی رستہ کھول دیا۔معجزات کی اس تشریح کے ماتحت جماعت احمد یہ جہاں بچے اور ثابت شدہ معجزات کی دل و جان سے قائل ہے وہاں ان تمام فرضی معجزات کو رد کرتی ہے جو لوگوں نے حضرت مسیح ناصری یا سید عبدالقادر صاحب جیلانی یا دوسرے مذہبی بزرگوں کی طرف منسوب کر رکھے ہیں۔مثلاً یہ کہ حضرت مسیح نے سینکڑوں مردوں کو ان کی قبروں میں سے اٹھا کر کھڑا کر دیا۔یا حقیقی اور واقعی طور پر اندھے لوگوں کو ہاتھ لگا کر بینا بنا دیا۔یا مٹی کے پرندے بنا کر ان میں پھونک ماری اور وہ زندہ ہو کر خدا کے بنائے ہوئے پرندوں سے مل جل گئے۔یا جب ان کے مخالفوں نے انہیں پکڑ کر صلیب پر لٹکانا چاہا تو وہ جھٹ