سلسلہ احمدیہ — Page 269
۲۶۹ اس طرح آپ نے اس اعتراض کا بھی قلع قمع کر دیا جو اس زمانہ میں نئی روشنی کے دلدادگان کی طرف سے حامیان اسلام کے خلاف کیا جاتا تھا کہ تم ہمیں ایک ایسی کتاب کی طرف لے جانا چاہتے ہو جو آج سے تیرہ سو سال پہلے نازل ہوئی تھی۔کیونکہ اگر آدم کے وقت کا مادی عالم آج کے ترقی یافتہ لوگوں کی مادی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کا روحانی عالم موجودہ زمانہ کی روحانی ضروریات کے لئے کیوں کافی نہیں ہو سکتا ؟ ہاں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مادی دنیا کے سائنس دانوں کی طرح کوئی روحانی استاد اس روحانی عالم کی گہرائیوں میں سے نئے نئے خزانے نکال کر دنیا کے سامنے لائے اور حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ میری بعثت کی یہی غرض ہے کہ میں موجودہ زمانہ کی روحانی پیاس کو ایک پرانے برتن میں سے تازہ شراب نکال کر بجھاؤں۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں:۔جاننا چاہئے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک اہل زبان پر روشن ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر ایک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یورپین یا امریکن۔یاکسی اور ملک کا ہوملزم وساکت ولا جواب کر سکتے ہیں وہ غیر محدود معارف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر ایک زمانہ کے خیالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں۔۔۔اے بندگان خدا یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر یک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدا فعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف ا موجود ہے۔کوئی شخص برہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا میں