سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 266 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 266

۲۶۶ قرآن شریف کو حدیث پر فضیلت ہے:۔ایک اور بڑی غلطی جو مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھی یہ تھی کہ مسلمانوں کے ایک متعد بہ حصہ نے عملاً یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ حدیث قرآن شریف پر حاکم اور قاضی ہے اور اگر کسی صحیح دیث سے کوئی بات ثابت ہو جاوے اور قرآن کی کوئی آیت اس کے خلاف ہو تو یا تو آیت کو منسوخ سمجھ لینا چاہئے اور یا حدیث کے مطابق آیت کے معنے ہونے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود نے اس عقیدہ کو بڑی سختی کے ساتھ رد فرمایا اور لکھا کہ اصل چیز جس پر اسلام کی بنیاد ہے وہ قرآن شریف ہے نہ کہ حدیث جو آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دوسو سال بعد عالم وجود میں آئی ہے۔آپ نے یہ بھی لکھا ہے کہ قرآن شریف کے ساتھ خدا کا خاص حفاظت کا وعدہ ہے جو حدیث کے ساتھ ہر گز نہیں۔پس قرآن کے مقابل پر حدیث کو کوئی وزن حاصل نہیں اور جو حدیث کسی قرآنی آیت سے ٹکرائے اور تطابق کی کوئی صورت نہ ہو سکے تو وہ اس سے زیادہ حق نہیں رکھتی کہ اسے غلط سمجھ کر ردی کی طرح پھینک دیا جائے۔آپ نے لکھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسی حدیث آنحضرت ﷺ کا قول ہے اور پھر بھی ہم اسے رد کرتے ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کا قول ہی نہیں اور غلط طور پر آپ کی طرف منسوب ہوئی ہے۔اسی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود نے ایک اور لطیف حقیقت کا بھی انکشاف فرمایا اور وہ یہ کہ آپ نے بتایا کہ قرآن شریف اور حدیث کے علاوہ ایک تیسری چیز بھی ہے جس کا نام سنت ہے۔آپ نے لکھا کہ یہ جو مسلمانوں کا عام طریق ہے کہ حدیث کو ہی سنت کا نام دے دیتے ہیں یہ درست نہیں بلکہ سنت ایک بالکل جدا چیز ہے جسے حدیث سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جہاں حدیث ان زبانی اقوال کا نام ہے جو راویوں کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کے ڈیڑھ دوسوسال بعد جمع کئے گئے وہاں سنت کسی قولی روایت کا نام نہیں بلکہ آنحضرت ہے کے اس تعامل کا نام ہے جو حدیثوں کے واسطے سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے مجموعی تعامل کے ذریعہ ہمیں پہنچا ہے۔مثلا قرآن شریف میں نماز کا حکم نازل ہوا اور پھر اس کی عملی صورت کو آنحضرت ﷺ نے اپنی زندگی میں کر کے بتا