سلسلہ احمدیہ — Page 259
۲۵۹ اسی ضمن میں حضرت مسیح موعود نے یہ عقیدہ بھی پیش فرمایا کہ چونکہ خدا کی صفات قدیم سے ہیں اور ان میں مستقل تعطل جائز نہیں اس لئے یہ خیال کرنا کہ کوئی ایسا زمانہ بھی گذرا ہے کہ جب مخلوق کی کوئی نوع بھی دنیا میں موجود نہیں تھی درست نہیں۔بلکہ ہر زمانہ میں مخلوق کی کوئی نہ کوئی نوع موجود رہی ہے اور ممکن ہے کہ انسان سے پہلے اس عالم میں مخلوق کی کوئی اور نوع پائی جاتی ہو۔چنانچہ فرماتے ہیں:۔یہ بات سچ ہے کہ خدا کی صفات خالقیت راز قیت وغیرہ سب قدیم ہیں حادث نہیں ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے۔سواسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن شریف نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیا کیا خدا نے بنایا مگر اس قدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئے۔اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔مسئلہ ارتقا۔ایک عرصہ سے مسئلہ ارتقا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے یعنی بعض مغربی محققین کی یہ رائے ہے کہ کسی زمانہ میں انسان موجودہ صورت میں نہیں تھا بلکہ حیوانیت کی ادنیٰ حالت میں زندگی گزارتا تھا۔اور پھر آہستہ آہستہ کئی تغیرات کے بعد موجودہ شکل وصورت کو پہنچا ہے۔ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابتداء میں انسان بندر کی شکل پر تھا اور پھر اس سے تدریجا ترقی کر کے انسانی شکل پر آ گیا۔سائنس دانوں کا یہ خیال ایک ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے اور نہ ہی سارے سائنسدان اس خیال کے قائل ہیں مگر اس میں شبہ نہیں کہ موجودہ زمانہ کے اکثر سائنسدان مسئلہ ارتقا کی اس تھیوری کو سچا سمجھتے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے اس مخصوص مسئلہ کے متعلق تفصیل کے ساتھ تو نہیں لکھا مگر بہر حال چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۶۹،۱۶۸