سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 260 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 260

۲۶۰ آپ نے اس خیال کو معین صورت میں رد فرمایا ہے کہ انسان بندر سے بنا ہے چنانچہ فرماتے ہیں:۔” ہمارا مذہب یہ نہیں کہ انسان کسی وقت بندر تھا۔پھر دم کٹ گئی اور انسان بن گیا۔یہ تو صرف دعویٰ ہے اور بار ثبوت مدعی پر ہے۔ہم ایسے قصوں پر اپنے ایمان کی بنیاد نہیں رکھ سکتے۔موجودہ زمانہ کا عام نظارہ جو ہے وہ یہی ہے کہ بندر سے بندر پیدا ہوتا ہے اور انسان سے انسان۔پس جو اس کے خلاف ہے وہ قصہ ہے۔واقعی بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ انسان ہی سے انسان پیدا ہوتا ہے اور پہلے دن آدم ہی بنا تھا۔“ مگر مسئلہ ارتقا کے اس پہلو کو رد کرنے کے باوجود حضرت مسیح موعود ارتقا کے اصول کو فی الجملہ تسلیم فرماتے تھے مثلاً حضرت مسیح موعود کا یہ عقیدہ تھا کہ دنیا کی پیدائش ایک فوری تغیر کی صورت میں نہیں ہوئی بلکہ تدریجی طور پر آہستہ آہستہ ہوئی ہے اور آپ کا یہ عقیدہ اس قرآنی تعلیم کے مطابق تھا جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا نے اس دنیا کو درجہ بدرجہ پیدا کیا ہے۔اسی طرح آپ انسانی پیدائش میں بھی تدریجی خلق کے قائل تھے مگر اس بات کے قائل نہیں تھے کہ انسان کسی وقت بندر تھا اور پھر آہستہ آہستہ انسان بن گیا۔اور قرآن شریف نے جو یہ بیان کیا ہے کہ خدا نے زمین و آسمان اور ان کی درمیانی چیزوں کو چھ دن میں بنایا اس کی تشریح حضرت مسیح موعود یہ فرماتے تھے کہ یہاں دن سے مراد یہ چوبیس گھنٹے والا دن نہیں ہے کیونکہ یہ دن تو خلق عالم کے بعد وجود میں آیا ہے بلکہ دن سے مراد ایک لمبا زمانہ ہے جیسا کہ مثلاً قرآن شریف میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسانوں کی شمار کے لحاظ سے خدا کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوتا ہے۔کے تمام قوموں میں رسول آئے ہیں :۔ایک اور نیا خیال حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے یہ پیش کیا کہ یہ درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف خاص خاص قوموں یا خاص خاص ملکوں کی طرف ہی اپنے رسول بھیجے ہی اور دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں کو بھلائے رکھا ہے بلکہ اس نے اپنی بدر جلد نمبر ۲۱ مورخہ ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء صفحه کالم نمبر ۳ و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۵ مورخہ ۳۰ رمئی ۱۹۰۸، صفحه ۵ کالم نمبر ۳۔تلخیص از چشمه معرفت ، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۳