سلسلہ احمدیہ — Page 255
۲۵۵ توحید کی حقیقت اور مخفی شرک کی تشریح:- تیسرا عقیدہ آپ نے یہ پیش کیا کہ دنیا کو بتایا کہ حقیقی تو حید صرف یہ نہیں کہ صرف منہ سے خدا کے ایک ہونے کا اقرار کیا جائے اور شرک صرف اس بات میں محدود نہیں کہ کسی بت یا انسان یا سورج یا پہاڑ یا دریا کو خدا مان کر اس کے سامنے سجدہ کیا جائے۔بلکہ یہ چیزیں صرف موٹے طور پر تو حید اور شرک کو بیان کرتی ہیں اور تو حید اور شرک کی حقیقی تشریح ان سے بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہری ہے۔چنانچہ آپ نے بتایا کہ اصل توحید یہ ہے کہ انسان نہ صرف منہ سے خدا کے ایک ہونے کا قائل ہو بلکہ اس کی کامل محبت اور کامل خوف اور کامل بھروسہ صرف خدا کی ذات کیساتھ وابستہ ہے اور یہ کہ شرک صرف یہ نہیں کہ کسی بت وغیرہ کی پرستش کی جائے بلکہ حقیقی شرک میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انسان کسی چیز کی ایسی عزت کرے جو خدا کی کرنی چاہئے اور کسی چیز کے ساتھ ایسی محبت کرے جو خدا سے کرنی چاہئے اور کسی چیز سے ایسا خوف کھائے جو خدا سے کھانا چاہئے اور کسی چیز پر ایسا بھروسہ کرے جو خدا پر کرنا چاہئے۔آپ فرماتے ہیں:۔ہر چہ غیر خدا بخاطر تست آں بُت تست اے بایماں ست پر حذر باش زیں بتان نہاں دامن دل زدست شاں برہاں د یعنی ہر وہ چیز کہ جو خدا کے مقابل پر تیرے دل میں جگہ پائے ہوئے ہے وہ تیرے دل کا ایک مخفی بت ہے مگر اے کمزور ایمان والے شخص تو اسے سمجھتا نہیں۔تجھے چاہئے کہ اپنے ان مخفی بتوں کی طرف سے ہوشیار رہے اور اپنے دل کے دامن کو ان کی گرفت سے بچا کر رکھے۔“ آپ نے بار بار اور کثرت کے ساتھ بیان کیا کہ مثلاً اگر کوئی شخص بیمار ہو کر اپنے ظاہری علاج معالجہ پر اتنا بھروسہ کرے کہ گویا خدا کو بھلا ہی دے اور ساری طاقت اور ساری شفا دوائی میں ہی سمجھنے لگ جائے تو وہ بھی ایک قسم کے مخفی شرک کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ وہ دوائی کو وہ درجہ دیتا ہے جو