سلسلہ احمدیہ — Page 254
۲۵۴ اور یقین کی صورت حاصل ہوتی ہے جس میں کسی شک یا شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی اسی طرح خدا کے متعلق ایمان ہونا چاہئے مگر آپ نے لکھا کہ دنیا میں اکثر لوگوں کو یہ ایمان حاصل نہیں اور نہ صرف یہ ایمان حاصل نہیں بلکہ وہ اس ایمان سے آگاہ بھی نہیں اور محض ورثہ کے ایمان یاسنے سنائے ایمان کو ہی حقیقی ایمان سمجھ رہے ہیں یعنی چونکہ ان کے اردگر دلوگ یہ بات کہتے رہتے ہیں کہ خدا ہے اس لئے وہ بھی کہتے ہیں کہ خدا ہے یا چونکہ ان کے ماں باپ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ کوئی خدا ہے اس لئے وہ بھی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خدا ہے مگر ان کو خدا کے متعلق کوئی ذاتی بصیرت یا یقین حاصل نہیں ہے حالانکہ حقیقی اور زندہ ایمان وہی ہے جس میں انسان کو بصیرت اور یقین حاصل ہو اور اس کا دل خدا کی ہستی کے متعلق تسلی اور تشفی پا جائے اور آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسی لئے مبعوث کیا ہے کہ میں لوگوں کو اس قسم کا ایمان عطا کروں اور خدا کی ذات کو ایک خیالی فلسفہ کی وادی سے نکال کر حقیقت کی چٹان پر قائم کر دوں۔آپ نے بار بار تشریح فرمائی ہے کہ خدا کا وجود ایسا نہیں ہے کہ خدا نے دنیا کو پیدا کیا اور پھر اس کی حکومت سے معزول ہو کر اور سارے تعلقات قطع کر کے الگ ہو کر بیٹھ گیا بلکہ وہ ایک تعلق رکھنے والا دنیا کے کاموں میں دلچسپی لینے والا اپنی مخلوق کی نیکی بدی کو دیکھنے والا خدا ہے جو اپنے نیک بندوں کا دوست اور محافظ ہوتا ہے اور ان کو دشمنوں کے شر سے بچاتا اور ان کے لئے ترقی کے رستے کھولتا ہے اور مشکلات میں ان کے کام آتا ہے اور برے اور شریر لوگوں کو وہ کبھی کبھی اس دنیا میں ہی اصلاح کے خیال سے پکڑتا اور سزا دیتا ہے۔پس جب دنیا کا خدا ایسا خدا ہے تو اس کے متعلق ایک محض فلسفیانہ ایمان کوئی حقیقت نہیں رکھتا جب تک کہ اس کے متعلق دلی یقین اور بصیرت کے ساتھ ایمان لا کر اس کے ساتھ تعلق نہ پیدا کیا جاوے۔حضرت مسیح موعود رماتے ہیں:۔نازمت کر اپنے ایماں پر کہ یہ ایماں نہیں اس کو ہیرا مت گماں کر ہے یہ سنگِ کو ہسار پیٹنا ہوگا دو ہاتھوں سے کہ ہے ہے مرگئے جبکہ ایماں کے تمہارے گند ہوں گے آشکار