سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 253 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 253

۲۵۳ ہے وہ سخت غلطی پر ہیں۔‘1 الہام الہی کے متعلق حضرت مسیح موعود نے ایک اور تشریح بھی فرمائی اور وہ یہ کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف نیک اور پاک لوگوں کو ہی الہام ہو بلکہ بعض اوقات ادنیٰ درجہ کے لوگوں کو بھی الہام ہوجاتا ہے کیونکہ اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ عام لوگوں میں ایک شہادت پیدا کرنا چاہتا ہے کہ وہ الہام کے کوچہ سے بالکل بے خبر اور نا آشنا نہ رہیں مگر یہ الہام شاذ ہوتا ہے اور درجہ میں بھی ادنیٰ ہوتا ہے لیکن جو الہام انبیاء کو یا خاص اولیاء کو ہوتا ہے اس میں کثرت کے علاوہ یہ خصوصیت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ زیادہ مصفا اور زیادہ شاندار ہوتا ہے اور اس میں خدا کے علم اور اس کی قدرت اور اس کی محبت کی خاص جھلک نظر آتی ہے اور بسا اوقات وہ دوستانہ کلام کا رنگ رکھتا ہے مگر اس کے مقابل پر عام لوگوں کا الہام ایسا ہوتا ہے جیسے کہ ایک بادشاہ بعض اوقات گھر کے ایک ادنی نو کر یا چوہڑے سے بات کر لیتا ہے اور کثرت اور قلت کے لحاظ سے ان دونوں میں ایسا فرق ہوتا ہے کہ جیسے ایک امیر کبیر آدمی کے مقابلہ پر جس کے پاس لاکھوں روپیہ ہو ایک غریب مفلس شخص کی حیثیت ہوتی ہے جس کے پاس صرف چند پیسے ہوں پس دونوں میں اشتراک تو ہے مگر اس اشتراک کی وجہ سے دونوں کی بالمقابل حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ایمان باللہ کی حقیقت:۔دوسرا عقیدہ جو آپ نے پیش کیا وہ ایمان باللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے آپ نے بیان فرمایا کہ موجودہ زمانے میں اکثر لوگ ایمان باللہ کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور محض ایک رسمی اور سنے سنائے ایمان یا ورثہ کے ایمان کو حقیقی ایمان سمجھنے لگ جاتے ہیں حالانکہ ایسا ایمان کوئی چیز نہیں بلکہ حقیقی ایمان جو زندہ ایمان کہلانے کا حقدار ہے وہ یہ ہے کہ انسان خدا کی ہستی کے متعلق کم از کم ایسا ہی یقین رکھے جیسا کہ وہ اس دنیا کی چیزوں کے متعلق رکھتا ہے۔مثلاً ایک انسان اپنے باپ کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ یہ میرا باپ ہے اپنے مکان پر نظر ڈالتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ یہ میرا مکان ہے۔سورج پر نگاہ کرتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ یہ سورج ہے اور ان چیزوں کے متعلق اسے ایک حقیقی بصیرت چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۸۰