سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 244 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 244

۲۴۴ کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔“ پھر فرماتے ہیں:۔یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ جس قد ر خدا تعالیٰ نے مجھ سے مکالمہ و مخاطبہ کیا ہے اور جس قدر امور غیبیہ مجھ پر ظاہر فرمائے ہیں تیرہ سو برس ہجری میں کسی شخص کو آج تک بجز میرے یہ نعمت عطا نہیں کی گئی۔اگر کوئی منکر ہو تو بار ثبوت اس کی گردن پر ہے۔غرض اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں۔سے اس بحث کے ختم کرنے سے پہلے یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ گو حضرت مسیح موعود کے الہامات میں شروع سے ہی آپ کے متعلق مرسل اور رسول اور نبی وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے آئے ہیں مگر چونکہ عام مسلمانوں کا یہ عقیدہ تھا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا اور آپ پر بھی اس بارے میں ابھی تک خدا کی طرف سے پوری وضاحت نہیں ہوئی تھی اس لئے اوائل میں آپ مسلمانوں کے معروف عقیدہ کا احترام کرتے ہوئے ان الفاظ کی تاویل فرما دیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ الفاظ محض جزوی مشابہت کے اظہار کے لئے استعمال کئے گئے ہیں مگر جب خدا کی طرف سے آپ پر حق کھل گیا اور آپ کو صریح اور واضح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا تو آپ نے کھلے طور پر اس کا تجلیات الہیہ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴۱۲۰۴۱۱ - ۲ حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۶ ۴۰ ، ۴۰۷