سلسلہ احمدیہ — Page 237
۲۳۷ کر واقعی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت کا دروازہ کھلا رکھنا نہ صرف آنحضرت ﷺ کی شان کے منافی ہے بلکہ اس سے اسلام کی اکملیت پر بھی سخت زد پڑتی ہے۔مگر حق یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے نبوت کی یہ تعریف ہرگز درست نہیں اور قرآن وحدیث دونوں اسے سختی کے ساتھ رد کرتے ہیں۔اس کے مقابلہ پر نبی کی جو تعریف اسلامی تعلیم کی رو سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ سے وحی پا کر دنیا کی اصلاح کے لئے مبعوث ہو اور ایسے روحانی مقام پر پہنچ جاوے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کثرت سے کلام کرے اور اسے غیب کے امور پر کثرت کے ساتھ اطلاع دی جاوے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔یہ تمام بد قسمتی دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لا نا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے اسی نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔“ اس تشریح کے ہوتے ہوئے جو قرآنی تعلیم کے عین مطابق ہے یہ اعتراض بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ نبوت کا دروازہ کھلا ماننے سے آنحضرت ﷺ کی ہتک لازم آتی ہے یا یہ کہ اس سے قرآنی شریعت کو منسوخ قرار دینا پڑتا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ ایسی نبوت کو جاری ماننے سے آنحضرت ﷺ کی شان کی بلندی ظاہر ہوتی ہے کیونکہ وہی افسر بڑا ہوتا ہے جس کے ماتحت بڑے ہوں اور وہی شخص زیادہ کامل سمجھا جاتا ہے جس کا فیضان زیادہ وسیع ہو اور اس کی پیروی انسان کو اعلیٰ سے اعلیٰ انعامات کا حقدار بنا سکے۔بے شک اگر حضرت مسیح موعود یہ دعویٰ فرماتے کہ میرے آنے سے قرآنی شریعت منسوخ ہو گئی ہے یا یہ اعلان فرماتے کہ میں نے آنحضرت ﷺ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۱ ۲ صفحه ۳۰۶ الله