سلسلہ احمدیہ — Page 236
۲۳۶ میں بھی صراحت کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ:۔لَا الْمَهْدِى إِلَّا عِيسَى و یعنی مسیح موعود کے سوا اور کوئی موعود مہدی نہیں ہے۔“ اس دعوی کے متعلق بھی حضرت مسیح موعود کی کتب اور سلسلہ کے لٹریچر میں تفصیل کے ساتھ بحث آچکی ہے اس لئے اس جگہ تفصیلی بیان کی ضرورت نہیں۔جو ناظرین تفصیل میں جانا چاہیں وہ سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔کے نبوت کا دعویٰ:۔حضرت مسیح موعود کا چوتھا دعویٰ ظلی نبوت کا تھا یعنی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو آنحضرت ﷺ کی اتباع میں اور آپ کے لائے ہوئے دین کی خدمت کے لئے آپ کے ظل اور بروز ہونے کی حیثیت میں نبوت کی خلعت پہنائی ہے۔یہ دعویٰ بھی چونکہ موجود الوقت مسلمانوں کے معروف عقیدہ کے سخت خلاف تھا اور وہ مقدس بانی اسلام ﷺ کے بعد ہر قسم کی نبوت کا دروازہ بند قرار دیتے تھے اس لئے اس دعویٰ پر بھی مخالفت کا بہت شور برپا ہوا اور آپ کے مخالفوں نے اسے ایک آڑ بنا کر آپ کو نعوذ باللہ اسلام کا دشمن اور آنحضرت عملے کے لائے ہوئے دین کو مٹانے والا قراردیا اور اب تک بھی آپ کا یہ دعویٰ مسلمانوں میں سب سے زیادہ ہیجان پیدا کرنے والا ثابت ہو رہا ہے۔مگر یہ سب شور و غوغا محض جہالت اور تعصب کی بناء پر ہے ورنہ غور کیا جائے تو حضرت مسیح موعود کے اس دعوی میں کوئی بات قرآن وحدیث کے خلاف نہیں بلکہ اس سے اسلام کی اکملیت اور آنحضرت ﷺ کی شان کی بلندی کا ثبوت ملتا ہے۔الله دراصل اس معاملہ میں سارا دھوکا اس بات سے لگا ہے کہ بدقسمتی سے یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ہر نبی کے لئے نئی شریعت کا لانا ضروری ہے یا کم از کم یہ کہ ہر نبی کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سابقہ نبی کے روحانی فیض سے آزاد ہو کر براہ راست نبوت کا انعام حاصل کرے اور نبوت کی اس تعریف کو مان ابن ماجه ، كتاب الفتن باب شدّة الزمان سے مثلاً دیکھو نور القرآن و حقیقۃ المہدی مصنفہ حضرت مسیح موعود در ساله ریویو آف ریلیجنز قادیان جلد نمبرے۔