سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 228 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 228

۲۲۸ کی غرض و غایت صرف نماز روزہ تک محدود ہے۔اگر ایسا ہوتا تو انسان کو اسکے موجودہ ماحول میں اور موجودہ طاقتوں اور موجودہ ضروریات کے ساتھ نہ پیدا کیا جاتا جہاں اسے بہت سے دوسرے کاموں میں لازماً پڑنا پڑتا ہے۔پس اسلامی اصطلاح میں عبادت سے یہ مراد ہے کہ خدا نے انسان کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی ہستی کو پہچانے اور پھر اس کی صفات کو اپنے اندر لے کر اور اس کا ظل بن کر ایک مفید اور نفع مند وجود کی صورت میں دنیا میں ترقی کرے۔اعلیٰ اخلاق کا صحیح معیار سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ خدا کی مرضی کے مطابق زندگی گزاری جائے اور جو رستہ خدا نے انسان کے لئے مقرر کر دیا ہے اس پر چل کر ترقی کی جاوے۔اسی تعریف میں دین اور دنیا دونوں کے رستے شامل ہیں۔پس اسلام کی رو سے انسان کی پیدائش کی غرض و غایت یہی ہے کہ وہ خدا کا بندہ بن کر اس کی مرضی کو پورا کرے۔دین کے رستے میں خدا پر سچا ایمان اور اس کے ساتھ حقیقی تعلق ہو۔اور اس کے احکام کی پیروی کی جاوے اور دنیا کے رستے میں افراد اور قوموں کے حقوق کو خدا کے منشاء کے مطابق ادا کیا جائے۔اسی لئے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص خدا کی خاطر اچھی نیت کے ساتھ اپنی بیوی کے منہ میں ایک لقمہ ڈالتا ہے تو وہ بھی ایک عبادت ہے۔اس معنی میں ہر نیک اور اچھا صلى الله عمل جو خدا کی خاطر کیا جائے ایک عبادت ہے اور انسان کو عبادت ہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔موت کے بعد دوسری زندگی :۔انسانی زندگی کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو دوحصوں میں تقسیم کیا ہے۔ایک اس دنیا کی زندگی جو دارالعمل ہے۔دوسرے آخرت کی زندگی جو دار الجزاء ہے اور ان دونوں کے درمیان موت کا پردہ حائل ہے۔جو اعمال انسان اس دنیا میں کرتا ہے ان کے مطابق وہ اپنی اگلی زندگی میں اچھا یا برا بدلہ پائے گا۔یہ بدلہ کس صورت میں ظاہر ہوگا اس کے متعلق ہم انشاء اللہ آگے چل کر احمدیت کے مخصوص عقائد کی ذیل میں بیان کریں گے مگر بہر حال اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ جنت ایک پاکیزہ مقام ہے جس میں کوئی لغو چیز یا گناہ کی بات نہیں۔علاوہ ازیں جہاں اسلام نے جنت کو دائی قرار دیا ہے وہاں دوزخ کے متعلق