سلسلہ احمدیہ — Page 221
۲۲۱ ہونی چاہئے اور اسے کس طرح پاک وصاف کیا جائے اور انسانی جسم کو کس طرح صاف رکھا جائے۔وغیرہ وغیرہ مگر شریعت اسلامی نے نسلِ انسانی کے ترقی یافتہ حالات کے ماتحت ان امور میں ایک اصولی تعلیم دے کر تفصیلات کے فیصلہ کوخو دلوگوں کی عقل اور ان کے حالات پر چھوڑ دیا ہے۔اسی طرح اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں ایک فرق یہ ہے کہ سابقہ شریعتوں میں چونکہ انسانی ذہن کی نشو و نما کامل نہیں تھی اور انسان خدا کی ساری صفات کا نقشہ سمجھنے کے قابل نہیں تھا اس لئے صرف چند صفات کا علم دیا گیا اور انہیں بھی ایسے استعاروں کے ساتھ بیان کیا گیا جسے اس وقت کا اوسط انسانی دماغ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا تھا۔مثلاً بہت سی سابقہ شریعتوں میں انسان کے ساتھ خدا کے تعلق کو ظاہر کرنے کے لئے خدا کو بطور آب یعنی باپ کے پیش کیا گیا ہے لیکن اسلامی شریعت میں آ کر خدا کی ساری صفات کا مکمل ظہور ہو گیا اور خدا کا وجود اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہوا۔اور باپ وغیرہ کے استعارے چھوڑ کر جن کے ساتھ ہمیشہ شرک کے خطرہ کا امکان رہتا تھا الوہیت کے صحیح نقشہ کو پیش کیا گیا۔چنانچہ اب کے لفظ کی جگہ رب کی صفت رکھی گئی جو اب کی نسبت بہت زیادہ وسیع اور بہت زیادہ گہرے تعلق پر دلالت کرتی ہے۔کیونکہ اب کے معنے تو صرف اسی حد تک محدود ہیں کہ دو نرومادہ آپس میں ملیں اور ایک تیسری چیز پیدا ہو جائے خواہ اس کے بعد اس تیسری چیز کا اپنے باپ کے ساتھ کوئی تعلق قائم رہے یا نہ رہے۔جیسا کہ عموماً حیوانات اور ادنیٰ درجہ کے انسانوں میں ہوتا ہے۔مگر رب سے مراد ایک ایسی ہستی ہے جو ایک چیز کو نیست سے ہست میں لائے۔پھر اس کی پرورش کا سامان مہیا کرے۔پھر اس کے ساتھ ساتھ رہے اور اس کی زندگی کے ہر دور میں اس کی محافظ ہو اور ہر دور کی ضروریات کو بصورت احسن پورا کرے اور پھر اسے درجہ بدرجہ اعلی کمالات تک پہنچائے۔یہ ایک ایسا اعلیٰ اور وسیع مفہوم ہے جس کے ساتھ اب کے ادنی اور محدود مفہوم کو کوئی بھی نسبت نہیں۔اسی طرح کئی اور فرق ہیں جو اسلامی شریعت اور سابقہ شریعتوں میں پائے جاتے ہیں مگر اس مختصر رسالہ میں زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں۔