سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 202 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 202

۲۰۲ پہلو یہ تھا کہ آپ کی زندگی کلیۂ تکلفات سے پاک تھی۔یعنی نہ صرف جیسا کہ اس باب کے شروع میں بتایا گیا ہے آپ خوراک اور لباس وغیرہ کے معاملہ میں بالکل سادہ مزاج تھے بلکہ زندگی کے ہر شعبہ اور اخلاق کے ہر پہلو میں آپ کا طریق ہر جہت سے سادہ اور ہر قسم کے تکلفات سے بالا تھا اور یوں نظر آتا تھا کہ آپ کے اعلیٰ اخلاق تمام مصنوعی آرائشوں سے آزاد ہو کر اپنے قدرتی زیور میں جلوہ افروز ہیں۔کھانے میں، پینے میں ، سونے میں، جاگنے میں کام میں ، آرام میں، تکلیف میں ، آسائش میں، سفر میں ،حضر میں عزیزوں میں ، بیگانوں میں ، گھر کے اندر گھر کے باہر غرض زندگی کے ہر پہلو میں آپ کے اخلاق و عادات اپنے فطری بہاؤ پر چلتے تھے اور ان میں تکلف کی کوئی دور کی جھلک بھی نظر نہیں آتی تھی۔خاکسار راقم الحروف نے بہت ہی کم ایسے لوگ دیکھے ہیں جن کی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو میں کسی نہ کسی جہت سے تکلف کا دخل نہ آجا تا ہو بلکہ حق یہ ہے کہ میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا جو تکلف سے کلی طور پر پاک ہو مگر حضرت مسیح موعود کی زندگی تکلفات سے اس طرح بالا اور ارفع رہی جس طرح ایک بلند پرواز طیارہ زمین کو چھوڑ کر اوپر نکل جاتا ہے۔میں تکلفات کو ہر صورت میں برا نہیں کہتا یقیناً ایک ایسا انسان جو اخلاق کے کمال تک نہ پہنچا ہوا اسے اپنے اخلاق کے درست اظہار کے لئے کسی نہ کسی جہت سے تکلف کی ضرورت لاحق ہوتی ہے اور قدرتی حسن کی کمی کو مصنوعی تزئین سے پورا کرنا پڑتا ہے پس اگر عام حالات میں تکلف ایک بری چیز ہے تو بعض خاص حالات میں وہ ایک مفید پہلو بھی رکھتا ہے مگر حضرت مسیح موعود کے اخلاق کو یہ قدرت حسن حاصل تھا کہ وہ اپنی اکمل صورت کی وجہ سے تکلفات کی آرائش سے بالکل بالا تھے۔خوراک لباس و غیرہ کا ذکر اوپر گزر چکا ہے کہ ان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادات نہایت درجہ سادہ تھیں جو کھانا بھی سامنے رکھ دیا جاتا آپ اسے بے تکلفی سے تناول فرماتے اور کبھی کسی کھانے پر اعتراض نہیں کیا اور نہ کبھی کھانے پینے کے شوقین لوگوں کی طرح کسی خاص کھانے کی خواہش کی۔یہ نہیں کہ ملامتی فرقہ کے لوگوں کی طرح آپ کو اچھے کھانے سے پر ہیز تھا اور ضرور ادنیٰ