سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 11 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 11

" حضرت مسیح موعود کی زندگی کا یہ زمانہ بھی مطالعہ کے انہاک میں گزرا۔آپ کے وقت کا اکثر حصہ کتب کے مطالعہ میں گزرتا تھا اور سب سے زیادہ انہماک آپ کو قرآن شریف کے مطالعہ میں تھا حتی کہ بعض دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں ہم نے آپ کو جب بھی دیکھا قرآن پڑھتے دیکھا۔آپ کا مطالعہ سرسری اور سطحی رنگ کا نہیں ہوتا تھا بلکہ اپنے اندر ایسا انہماک رکھتا تھا کہ گویا آپ معانی کی گہرائیوں میں دھسے چلے جاتے ہیں۔زمانہ ماموریت کے متعلق جبکہ دوسرے کاموں کی کثرت کی وجہ سے مطالعہ کا شغل لازماً کم ہو گیا تھا ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ایک دفعہ آپ کو قادیان سے بٹالہ تک بیل گاڑی میں سفر کرتے دیکھا لے آپ نے قادیان سے نکلتے ہی قرآن شریف کھول کر سامنے رکھ لیا اور بٹالہ پہنچنے تک جس میں بیل گاڑی کے ذریعہ کم و بیش پانچ گھنٹے لگے ہوں گے آپ نے قرآن شریف کا ورق نہیں الٹا اور انہی سات آیتوں کے مطالعہ میں پانچ گھنٹے خرچ کر دیئے۔اس سے آپ کے زمانہ شباب کے مطالعہ کی محویت کا اندازہ ہوسکتا ہے۔خود آپ کا اپنا بیان ہے کہ اس زمانہ میں مجھے مطالعہ میں اس قدر انہماک تھا کہ بسا اوقات میرے والد صاحب میری صحت کے متعلق فکرمند ہوکر مجھے مطالعہ سے روک دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ میں شاید اس شغف میں اپنی جان کھو بیٹھوں گا۔آپ کے والد صاحب نے اس محویت کو دیکھا تو آپ کی صحت سے خائف ہوکر نیز آپ کے مستقبل کو دنیا دارانہ رنگ میں اچھا بنانے کی غرض سے آپ پر زور دینا شروع کیا کہ یا تو کوئی ملازمت قبول کر لیں اور یا خاندانی زمینداری کے کام میں لگ جائیں۔آپ نے بہت ٹالا اور ہر رنگ میں معذرت کی کہ میں اس میدان کا آدمی نہیں ہوں مگر بالآخر والد کا دباؤ غالب آیا اور آپ نے باپ کی فرمانبرداری کو فرض سمجھتے ہوئے زمینداری کام کی نگرانی میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا اور والد کی ہدایت کے مطابق ان مقدمات کی پیروی میں مصروف ہو گئے جوان ایام میں خاندانی جائیداد کے متعلق کثرت سے پیش آرہے تھے۔یہ زمانہ آپ کے لئے بہت تلخ زمانہ تھا کیونکہ آپ کو اپنی خواہش لے اس زمانہ میں قادیان میں ریل نہ آئی تھی اور ابھی تک موٹر کا دور دورہ بھی نہیں تھا اس لئے یا تو بیل گاڑی استعمال ہوتی تھی اور یا پرانی طرز کا گھوڑے والا یکہ چلتا تھا۔آپ یکہ کی نسبت بیل گاڑی کو زیادہ پسند فرماتے تھے۔