سلسلہ احمدیہ — Page 199
۱۹۹ ہوئے احمدی بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھے کسی شخص نے دروازہ پر دستک دی اس پر حاضر الوقت احباب میں سے ایک شخص نے اٹھ کر دروازہ کھولنا چاہا۔حضرت مسیح موعود نے یہ دیکھا تو گھبرا کر اٹھے اور فرمایا ٹھہریں ٹھہریں۔میں خود کھولوں گا۔آپ دونوں مہمان ہیں اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ مہمان کا اکرام کرنا چاہئے۔غرض حضرت مسیح موعود کو نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی قال الله اور قال الرسول کا انتہائی پاس ہوتا تھا اور زندگی کے ہر قدم پر خواہ وہ بظاہر کیسا ہی معمولی ہو آپ کی نظر لازما سیدھی خدا اور اس کے رسول کی طرف اٹھتی تھی۔اس ضمن میں آپ نے جو تعلیم اپنے متبعین کو دی ہے وہ بھی آب زر سے لکھنے کے قابل ہے فرماتے ہیں:۔” جو شخص اپنے نفس کے لئے خدا کے کسی حکم کو ٹالتا ہے وہ آسمان میں ہرگز داخل نہیں ہوگا۔سو تم کوشش کرو جو ایک نقطہ یا ایک شعشہ قرآن شریف کا بھی تم پر گواہی نہ دے تا تم اسی کے لئے پکڑے نہ جاؤ۔لے اور مخصوص طور پر تقویٰ اللہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ سنو! مسلمانو! ہے حاصل اسلام بناؤ تام تقوی خدا کا عشق کے اور جام تقویٰ تقوی کہاں ایماں اگر ہے خام تقویٰ یہ دولت تو نے مجھ کو اے خدا دی فسبحان الله اخزى الاعادي راست گفتاری: راست گفتاری کی صفت تقویٰ وطہارت ہی کا ایک حصہ ہے لیکن چونکہ اس پر ایک روحانی مصلح کے دعوئی کی بنیاد ہوتی ہے اس لئے اس کے متعلق ایک علیحدہ نوٹ نامناسب نہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود کی راست گفتاری نہایت نمایاں اور مسلم تھی۔ظاہر ہے کہ عام حالات میں ہر شخص ہی سچ بولتا ہے اور بلاوجہ کو ئی شخص راستی کے طریق کو ترک نہیں کرتا پس اس معاملہ میں انسان کا اصل امتحان عام حالات میں نہیں ہوتا بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ ایسے حالات میں بھی صداقت پر کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۵ ۲۶ ۲ الحکم مورخہ، اردسمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۳ کالم نمبرا