سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 193 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 193

۱۹۳ حضرت مسیح موعود کا صبر و استقلال اور شجاعت:۔روحانی مصلحوں کا رستہ پھولوں کی سیج میں سے نہیں گزرتا بلکہ انہیں فلک بوس پہاڑیوں اور بے آب و گیاہ بیابانوں اور مہیب سمندروں میں سے ہو کر اپنی منزل مقصود تک پہنچنا پڑتا ہے بلکہ جتنا کسی رسول کا مشن زیادہ اہم اور زیادہ وسیع ہوتا ہے اتنا ہی اس کے رستے میں ابتلاؤں اور امتحانوں کی بھی زیادہ کثرت ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود اپنی ان مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔دعوت ہر ہرزہ گو کچھ خدمت آساں نہیں ہر قدم پر کوہ ماراں ہرگزر میں دشت خار مگر آپ کو وہ چیز حاصل تھی جس کے سامنے یہ ساری مشکلات پیچ ہو جاتی ہیں۔فرماتے ہیں:۔عشق ہے جس سے ہوں طے یہ سارے جنگل پر خطر عشق ہے جو سر جھکا دے زیر تیغ آب دار اور دل بھی آپ کو خدا نے وہ عطا کیا تھا جو دنیا کی کسی طاقت کے سامنے مرعوب ہونے والا نہیں تھا۔فرماتے ہیں:۔سخت جاں ہیں ہم کسی کے بغض کی پروا نہیں دل قوی رکھتے ہیں ہم دردوں کی ہے ہم کو سہار جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبہ زارو نزار یہ صرف ایک خالی دعوی نہیں تھا بلکہ جب سے کہ آپ نے خدا سے الہام پا کر مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا اس وقت سے لے کر اپنے یومِ وصال تک آپ کی زندگی صبر اور استقلال اور شجاعت کا ایسا شاندار منظر پیش کرتی ہے جو سوائے خدا کے خاص الخاص بندوں کے کسی دوسری جگہ نظر نہیں آتا۔یہ تفصیلات میں جانے کا موقعہ نہیں صرف اس قدر کہنا کافی ہے کہ جب آپ نے اپنے دعویٰ کا اعلان کیا تو ہندوستان کی ہر قوم آپ کے مقابلہ کے لئے ایک جان ہو کر اٹھ کھڑی ہوئی اور یوں نظر آتا تھا کہ ایک چھوٹی سی کشتی جسے ایک کمزور انسان اکیلا بیٹھا ہوا ایک ٹوٹے پھوٹے چپو کے ساتھ چلا رہا ہے چاروں طرف سے سمندر کی مہیب موجوں کے اندر گھری ہوئی ہے اور طوفان کا زور اسے یوں اٹھاتا اور گراتا ہے کہ جیسے کسی تیز آندھی کے سامنے ایک کاغذ کا پرزہ ادھر ادھر اڑتا پھرتا ہومگر