سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 188 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 188

۱۸۸ پاجامہ جو آخری عمر میں عموماً گرم ہوتا تھا۔جوتا ہمیشہ دیسی پہنا کرتے تھے اور ہاتھ میں عصا ر کھنے کی عادت تھی۔سر پر اکثر سفید ململ کی پگڑی باندھتے تھے جس کے نیچے عموماً نرم قسم کی رومی ٹوپی ہوتی تھی۔کھانے میں نہایت درجہ سادہ مزاج تھے اور کسی چیز سے شغف نہیں تھا بلکہ جو چیز بھی میسر آتی تھی بے تکلف تناول فرماتے تھے۔اور عموماً سادہ غذا کو پسند فرماتے تھے۔غذا بہت کم تھی اور جسم اس بات کا عادی تھا کہ ہر قسم کی مشقت برداشت کر سکے۔حضرت مسیح موعود کے حلیہ کی ذیل میں اس بات کا ذکر بھی غیر متعلق نہیں ہوگا کہ آپ کو دو بیماریاں مستقل طور پر لاحق تھیں یعنی ایک تو دوران سرکی بیماری تھی جو سر درد کے ساتھ مل کر ا کثر اوقات آپ کی تکلیف کا باعث رہتی تھی اور دوسرے آپ کو ذیا بیطس کی بیماری لاحق تھی اور پیشاب کثرت سے اور بار بار آتا تھا۔آپ نے ان بیماریوں کے لئے دعا فرمائی تو آپ کو الہاما بتایا گیا کہ یہ بیماریاں دور نہیں ہوں گی کیونکہ ان کا آپ کے ساتھ رہنا مقدر ہے اور آپ نے اس کی یہ تشریح فرمائی کہ مسیح موعود کے متعلق اسلامی نوشتوں میں جو یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ دوز رد چادروں میں لپٹا ہوا نازل ہوگا اس سے انہی دو بیماریوں کی طرف اشارہ مقصود تھا کیونکہ خواب میں زرد چادر سے مراد بیماری ہوتی ہے۔ان بیماریوں کے علاوہ آپ کو کبھی کبھی اسہال کی تکلیف بھی ہو جاتی تھی۔اپنے خدادا مشن کے متعلق کامل یقین اور جہاں تک ان اخلاق کا سوال ہے جو دین اور ایمان سے تعلق رکھتے ہیں حضرت مسیح موعود آنحضرت صلعم کے ساتھ بے نظیر محبت :۔میں دو خلق خاص طور پر نمایاں نظر آتے تھے۔اول اپنے خدا داد مشن پر کامل یقین۔دوسرے آنحضرت ﷺ کے ساتھ بے نظیر عشق و محبت۔یہ دو اوصاف آپ کے اندر اس کمال کو پہنچے ہوئے تھے کہ آپ کے ہر قول وفعل اور ہر حرکت وسکون میں ان کا ایک پُر زور جلوہ نظر آتا تھا۔بسا اوقات اپنے خدا داد مشن اور الہامات کا ذکر کر کے فرماتے تھے کہ مجھے ان کے متعلق ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ دنیا کی کسی چیز کے متعلق زیادہ سے زیادہ یقین ہوسکتا ہے