سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 175 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 175

۱۷۵ عین کام کی حالت میں واقع ہوئی ہے لیکن چونکہ جس مشن کو لے کر آپ اس دنیا میں آئے تھے وہ خدا کا مقرر کردہ مشن تھا اس لئے آپ کی وفات کے ساتھ آپ کا کام رک نہیں سکتا تھا چنانچہ آپ کی وفات کے قریباً ایک ماہ بعد یعنی ۲۱ جون ۱۹۰۸ء کو یہ مضمون لاہور کے ایک بڑے مجمع میں جس کے صدر مسٹر جسٹس رائے بہادر پر تول چندر صاحب حج چیف کورٹ پنجاب تھے پڑھ کر سنایا گیا اور ہر قوم وملت کے لوگوں نے اسے نہایت پسندیدگی کی نظر سے دیکھالے اور بعض نے یہاں تک آمادگی ظاہر کی کہ مجوزہ سمجھوتہ کی کارروائی ابھی اسی جلسہ میں شروع ہو جانی چاہئے لیکن بعض دوسرے لوگوں نے غور کے لئے وقت مانگا اور اس طرح یہ معاملہ اس وقت توقف میں پڑ گیا لیکن اگر ہندو اصحاب غور کریں تو آج بھی ملک کے امن اور بین الا قوام اتحاد کا یہی ایک ذریعہ ہے۔لیکچر ”پیغام صلح ، حضرت مسیح موعود کی آخری تصنیف تھی جس سے آپ کی تصانیف کا شمار اسی (۸۰) سے او پر پہنچ گیا جن میں بعض بڑی بڑی ضخیم کتابیں بھی شامل ہیں اور آپ کے اشتہارات کی تعداد دوسو ساٹھ (۲۶۰) سے اوپر ہے جن میں سے بعض اشتہار کئی کئی صفحے کے ہیں۔قرب وفات کے متعلق آخری الہام :۔حضرت مسیح موعود ”پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے کہ ۲۰ رمئی ۱۹۰۸ء کو آپ کو یہ الہام ہوا کہ :۔الرَّحِيل ثُمَّ الرَّحِيلِ وَالْمَوْتُ قَرِيبٌ - - یعنی کوچ کا وقت آگیا ہے ہاں کوچ کا وقت آ گیا ہے اور موت قریب ہے۔یہ الہام اپنے اندر کسی تاویل کی گنجائش نہیں رکھتا تھا مگر حضرت مسیح موعود نے دانستہ اس کی کوئی تشریح نہیں فرمائی لیکن ہر سمجھدار شخص سمجھتا تھا کہ اب مقدر وقت سر پر آ گیا ہے۔اس پر ایک دن حضرت والدہ صاحبہ نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود سے کہا کہ اب قادیان واپس چلیں۔آپ نے فرمایا کہ اب تو ہم اسی وقت جائیں گے جب خدائے جائے گا اور آپ بدستور پیغام صلح کی تقریر کے لکھنے میں مصروف رہے بلکہ آگے سے بھی زیادہ سرعت اور توجہ کے ساتھ لکھنا شروع کر دیا۔بالآ خر ۲۵ رمئی کی شام کو آپ بدر جلد نمبر ۲۵ و الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۰ ۲ - بدر جلد نمبر ۲۲ مورخه ۲ / جون ۱۹۰۸ء صفحہ۲ کالم نمبر۳