سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 165 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 165

۱۶۵ اپنی قبولیت کی علامت سے پہچانا جائے گا اور جھوٹا مردود اور نا کام رہے گا چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ نے دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دی اور ایسی قبولیت عطا فرمائی جو ہمیشہ سے صادقوں کو ملتی آئی ہے۔مگر اس کے مقابل پر نہ صرف عبدالحکیم خان کی پیشگوئی جھوٹی نکلی بلکہ وہ ہر طرح ذلیل اور مردو درہا اور کسی نے اس کو پوچھا تک نہیں اور آخر وہ اسی ذلت اور گمنامی کی حالت میں مر گیا اور اب کوئی شخص اسے جانتا تک نہیں۔لیکن چونکہ وہ سوال جو عبد الحکیم خان نے ایمان بالرسل کے متعلق اٹھایا تھا وہ بہت اہم تھا اور علاوہ اس کے عبد الحکیم خان الہام کا بھی مدعی بنتا تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے اس کے مقابل پر اپنے الہام کی اشاعت پر ہی اکتفا نہیں کی بلکہ عبدالحکیم خان کے غلط خیالات کی تردید میں ایک مبسوط کتاب تصنیف کر کے شائع فرمائی جس کا نام آپ نے ”حقیقۃ الوحی“ رکھا۔یہ ایک بہت مضخیم کتاب ہے جو ۶ ۱۹۰ء سے شروع ہو کر ۱۹۰۷ء میں ختم ہوئی۔اس میں حضرت مسیح موعود نے وحی اور الہام کی حقیقت پر نہایت سیر کن بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ وحی کتنی قسم کی ہوتی ہے اور وحی کی مختلف اقسام کی کیا کیا علامات ہیں اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ بعض اوقات الہام کی ادنی اقسمیں کمزور اور گندے لوگوں کو بھی ہو جایا کرتی ہیں اور غیر مومنوں اور فاسقوں فاجروں کو بھی بعض اوقات بچے خواب آ جاتے ہیں۔مگر یہ خواب اور یہ الہام ان کی سچائی اور نیکی کی علامت نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالی اس غرض سے ایسا کرتا ہے کہ تا عام لوگ بھی خوابوں اور الہاموں کے کوچے سے کسی قدر آشنار ہیں اور نبیوں اور پاک لوگوں کا اعلیٰ اور ارفع الہام ان کے خلاف حجت ہو سکے اور وہ اسے سمجھ سکیں۔اسی طرح آپ نے اس کتاب میں اس سوال کا بھی تشریح کے ساتھ جواب دیا کہ وہ نام نہاد ایمان جو محض صحیفہ فطرت کے عقلی مطالعہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے وہ ہرگز کافی نہیں ہوتا بلکہ حقیقی اور زندہ ایمان پیدا کرنے کے لئے نبیوں اور رسولوں کا وجود ضروری ہے جن کے ذریعہ خدا تعالیٰ اپنی روشن تجلیات کا ظہور کرتا ہے جو ایمان کو ” ہونا چاہئے“ کی پر خطر وادی سے نکال کر ” ہے“ کے محفوظ قلعہ میں پہنچا دیتی ہیں۔علاوہ ازیں آپ نے اس کتاب میں اپنے ان سینکٹروں نشانوں کو بھی بیان کیا