سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 162 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 162

۱۶۲ دوسرے۔وہ جماعت کے سب سے پہلے اجماع کے خلاف تھا جو وہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے معابعد ایک واجب الا طاعت خلیفہ کو منتخب کر کے کر چکی تھی۔تیسرے۔وہ خود صدر انجمن احمدیہ کے اس متحدہ فیصلہ کے خلاف تھا جو اس نے حضرت خلیفہ اول کے انتخاب کے وقت کیا تھالے چوتھے۔وہ اسلامی طریق عمل اور صحابہ کے تعامل کے خلاف تھا جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد خلافتِ راشدہ کی صورت میں قائم ہو چکا تھا۔پانچویں۔وہ عقل اور تجربہ کے بھی خلاف تھا جس نے دنیا میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ گو عام انتظامی کاموں کے سرانجام دینے کے لئے مجلسیں اور پارلیمنٹیں ایک حد تک کام دے سکتی ہیں مگر کسی زبر دست مہم کو چلانے اور کسی تیز رو کو جاری کرنے اور لوگوں میں زندگی کی روح پھونکنے کے لئے ایک واحد مقناطیسی شخصیت کی ضرورت ہوتی ہے۔اور پھر مذہبی نظام کے معاملہ میں تو خصوصاً ایک شخصی انتظام کے بغیر کام نہیں چل سکتا کیونکہ مذہب میں جذبات اور اخلاص اور ایمان کا تعلق ہوتا ہے اور یہ چیزیں ہرگز کسی انجمن کے انتظام کے ماتحت قائم نہیں رہ سکتیں اور پھر اسلام نے خلافت کو بھی کلی طور پر شخصی نہیں رہنے دیا بلکہ اس کے ساتھ مشورہ کو ضروری قرار دیا ہے۔مگر افسوس کہ جماعت کے ایک حصہ نے اس سوال پر ٹھو کر کھا کر اپنے لئے ایک ایسا رستہ اختیار کر لیا جو یقیناً فلاح و کامیابی کا رستہ نہیں لیکن اس ذکر کا اصل موقعہ آگے آتا ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔نوجوانوں میں کام کی روح اور جو درد ناک تقریر حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۵ء کے جلسہ سالانہ میں فرمائی تھی جس میں خصوصیت سے اس بات پر زور رسالہ حمید الا ذبان کا اجراء: تھا کہ گزرنے والے علماء کی جگہ لینے کے لئے نوجوانوں کو آگے آنا چاہئے وہ بہرے کانوں پر نہیں پڑی تھی۔بلکہ اس نے جماعت کے نو جوانوں میں ایک خاص لے دیکھو اعلان خواجہ کمال الدین صاحب سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ مندرجہ غیر معمولی پر چہ الحکم مورخه ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء