سلسلہ احمدیہ — Page 158
۱۵۸ کی عمر بڑی تھی اور جسم بھاری تھا اور ساتھ اس کے ذیا بیطیس کی تکلیف بھی رہتی تھی۔اس حالت میں انہیں کار بنکل کا پھوڑا نکل آیا۔اور چونکہ ان حالات میں یہ مرض عموماً مہلک ہوتا ہے ڈاکٹروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا۔اس پر سیٹھ صاحب نے گھبرا کر حضرت مسیح موعود کو تار کے ذریعہ دعا کی درخواست کی۔حضرت مسیح موعود کو سیٹھ صاحب کے ساتھ ان کے اخلاص اور خدمات کی وجہ سے بہت محبت تھی اس لئے آپ نے ان کے لئے خاص توجہ سے دعا فرمائی جس پر آپ کو خدا کی طرف سے الہام ہوا آثار زندگی چنانچہ اس کے بعد سیٹھ صاحب بالکل تندرست ہو گئے اور کئی سال صحت کی حالت میں زندہ رہ کر حضرت مسیح موعود کے بعد وفات پائی ہے (۳) حضرت مولوی نورالدین صاحب بھیروی جو حضرت مسیح موعود کے بعد پہلے خلیفہ ہوئے اور جو حضرت مسیح موعود کے خاص الخاص صحابہ اور دوستوں میں سے تھے ان کی اولاد چھوٹی عمر میں مرجاتی تھی جس پر بعض مخالفین نے استہزاء کا طریق اختیار کیا کہ گویا مرزا صاحب کا یہ خاص حواری لا ولد ر ہا جا رہا ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود نے خدا سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ حضرت مولوی صاحب کے ایک لڑکا پیدا ہو گا جسے خدا چھوٹے عمر میں فوت ہونے سے بچائے گا اور بطور علامت کے یہ بتایا گیا کہ اس بچہ کے بدن پر غیر معمولی صورت میں پھوڑے نکلیں گے۔چنانچہ اس پیشگوئی کے مطابق حضرت مولوی صاحب کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا جسے خدا نے بچپن میں وفات سے بچایا اور ولادت کے کچھ عرصہ بعد اس کے بدن پر اتنے پھوڑے نکلے کہ سارا جسم پھوڑوں سے بھر گیا کے گویا وہ کوئی مخفی زہر تھا جو پھوڑوں کے رستے نکل گیا اور پھر ایک لمبے عرصہ کے بعد ان پھوڑوں سے نجات ملی اور اس کے بعد خدا نے حضرت مولوی صاحب کو اور بھی کئی بچے عطا کئے جو زندہ رہے۔(۴) خاکسار مؤلف کے حقیقی ماموں میر محمد اسحق صاحب جو حضرت مسیح موعود کے مکان کے ایک حصہ میں رہتے تھے وہ ۱۹۰۶ء میں سخت بیمار ہو گئے اور تیز بخار کے ساتھ ہر دو بنِ ران میں گلٹیاں بھی ظاہر ہوگئیں۔چونکہ یہ ایام طاعون کے تھے اس لئے یقین کر لیا گیا کہ یہ طاعون ہے اور ا تلخیص از حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد۲۲ صفحه ۳۳۸، ۳۳۹ نشان نمبر ۱۴۲ ے تلخیص از حقیقة الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۳۰ نشان نمبر ۴۵