سلسلہ احمدیہ — Page 157
۱۵۷ نے رحمت کے نشانوں کی بھی کمی نہیں رکھی بلکہ غور کیا جائے تو آپ کے رحمت کے نشان جو آپ کے متعلق یا آپ کی اولاد کے متعلق یا آپ کے دوستوں کے متعلق یا آپ کی جماعت کے متعلق ظاہر ہوئے ان کی تعداد عذاب کے نشانوں سے بہت زیادہ ہے مگر ہم اس جگہ مثال کے طور پر صرف پانچ نشانوں کا ذکر کرتے ہیں جو حضرت مسیح موعود کی زندگی کے آخری ایام میں ظاہر ہوئے۔(۱) حضرت مسیح موعود کی جماعت میں ایک بزرگ نواب محمد علی خان صاحب ہیں جو ہر ہائی نس نواب مالیر کوٹلہ کے ماموں ہیں۔نواب محمد علی خان صاحب حضرت مسیح موعود کی صحبت سے مستفیض ہونے کے لئے قادیان میں ہجرت کر کے آگئے تھے۔اس عرصہ میں ان کا لڑکا عبدالرحیم خان تپ محرقہ سے بیمار ہو گیا اور باوجود پورے پورے علاج کے اس کی حالت دن بدن گرتی گئی حتی کہ ڈاکٹروں نے یہ رائے ظاہر کر دی کہ اب اس کا بچنا محال ہے اور چند دن میں فوت ہو جائے گا۔اس پر حضرت مسیح موعود کو دعا کی طرف خاص توجہ پیدا ہوئی اور آپ نے علیحدگی میں جا کر اس کے لئے دعا فرمائی۔جس پر آپ کو الہامآبتایا گیا کہ اس لڑکے کی موت مقدر ہے اور اب دعا کا وقت گزر چکا ہے۔اس پر آپ نے خدا سے التجا کی کہ اگر دعا کا وقت نہیں تو شفاعت کا وقت تو ہے۔لے پس میں اس بچہ کے لئے شفاعت کرتا ہوں اس پر بڑے زور کے ساتھ یہ الہام ہوا کہ خدا کی اجازت کے بغیر کون شفاعت کر سکتا ہے اور آپ لکھتے ہیں کہ اس الہام کے جلال کے سامنے میرا جسم کانپ گیا اور میں یہ یاد کر کے پانی پانی ہو گیا کہ میں نے خدا کی اجازت کے بغیر شفاعت کر دی۔مگر ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ایک محبت کی آواز آپ کے کانوں میں آئی کہ انتَ الْمَجَاز یعنی ہم تجھے شفاعت کی اجازت دیتے ہیں۔اس کے بعد آپ نے شفاعت فرمائی اور شفاعت کے ساتھ عبدالرحیم خان کی بیماری ہوا کی طرح اڑ گئی اور چند دن میں صحت یاب ہو کر چلنے پھرنے لگ گیا ہے (۲) ایک نہایت مخلص احمدی سیٹھ عبد الرحمن صاحب مدراس میں تاجر تھے۔سیٹھ صاحب۔لے شفاعت دعا سے اعلی مرتبہ رکھتی ہے جس میں دعا کرنے والا شخص اس شخص کو جس کے لئے دعا کی جاتی ہے اپنے نفس کے ساتھ جوڑ کر اور خدا کو اپنے تعلق کا واسطہ دے کر یہ درخواست کرتا ہے کہ اس شخص پر رحم کیا جاوے مگر شفاعت کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ خدا سے اجازت لے کر کی جائے لیکن حضرت مسیح موعود کو اس وقت کے جوش کی حالت میں اجازت حاصل کرنے کا خیال نہیں رہا اور آپ نے بلا اجازت شفاعت فرما دی۔خاکسار مؤلف ۲ تلخیص از حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۸۸ حاشیه و تذکره صفحه ۴۱۳،۴۱۲ مطبوعه ۲۰۰۴ء