سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 151 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 151

۱۵۱ میں دینی علماء پیدا کرنے کی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی تجویز اور مدرسہ احمدیہ کی ابتدائی داغ بیل: کی وفات نے حضرت مسیح موعود کی توجہ کو اس طرف بھی مبذول کیا کہ جماعت میں کوئی ایسا انتظام ہونا چاہئے کہ مرنے والے علماء کی جگہ لینے کے لئے دوسرے لوگ تیار ہوں جوسلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا سکیں اور چونکہ اس زمانہ میں آپ کو اپنی وفات کے متعلق بھی کثرت کے ساتھ الہامات ہورہے تھے اور ان ایام میں آپ کو جماعت کی تربیت کی طرف بھی خاص توجہ تھی اس لئے آپ نے کوشش فرمائی کہ بہت جلد کوئی ایسی تجویز ہو جاوے جس سے جماعت میں دین کی خدمت کرنے والے علماء پیدا ہونے لگیں۔چنانچہ جب دسمبر ۱۹۰۵ء کے آخری ہفتہ میں قادیان میں جلسہ سالانہ کا اجتماع ہوا تو آپ نے اس موقع پر ایک نہایت دردانگیز تقریر فرمائی جس میں اپنی اس تجویز کو پیش کیا اور فرمایا کہ موجودہ انگریزی مدرسہ ( یعنی تعلیم الاسلام ہائی سکول ) ہماری اس مخصوص ضرورت کو پورانہیں کرتا اس لئے ایسی درسگاہ کی ضرورت باقی رہتی ہے جس میں دینی علوم کی تعلیم دی جائے او رایسے علماء پیدا کئے جائیں جو اسلام اور احمدیت کی تعلیم سے پوری طرح واقف ہوں اور علم کے علاوہ تقریر وتحریر میں بھی اعلی ملکہ رکھیں اور انہیں انگریزی اور حسب ضرورت سنسکرت وغیرہ بھی پڑھائی جائے اور دوسرے مذاہب کی تعلیم بھی دی جائے اور کسی قدر سائنس بھی سکھائی جائے اور اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی تحریک فرمائی کہ جماعت کے نوجوان اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں تا کہ انہیں مناسب تعلیم دلا کر کام میں لگایا جا سکے۔اس موقعہ پر آپ نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ ابھی جماعت میں تربیت کے لحاظ سے بہت کچھ اصلاح اور ترقی کی ضرورت ہے اور فرمایا کہ گو خدا کے وعدوں پر نظر رکھتے ہوئے مجھے ہر طرح سے امید اور ڈھارس ہے کہ خدا ساری کمیوں کو خود پورا فرمادے گا مگر بظا ہر صورت جماعت کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اور دوسری طرف اس پیغام موت کا خیال کرتے ہوئے جو مجھے خدا کی طرف سے آرہا ہے میرے دل میں غم اور درد پیدا ہوتا ہے اور جماعت کی حالت اس بچہ کی سی نظر آتی ہے جس نے ابھی چند دن ہی دودھ پیا ہو اور اس کی ماں فوت ہو جاوے لے دیکھو پر چہ جات اخبار الحکم بابت ماہ جنوری و فروری ۱۹۰۶ء