سلسلہ احمدیہ — Page 150
آپ کو کئی سال پہلے سے رؤیا ہو چکا تھا اور آپ کو بتایا گیا تھا کہ جماعت کے خاص مخلصین کے لئے جو خدا کی نظر میں بہشتی ہیں ایک علیحدہ قبرستان ہونا چاہئے تا کہ وہ ایک یادگار ہو اور بعد میں آنے والی نسلیں اسے دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں اور آپ اس عرصہ میں اس کے جائے وقوع اور زمین وغیرہ کے بارے میں غور فرماتے رہے تھے لیکن اب جبکہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات ہوئی اور خود آپ کو اپنی وفات کے بارے میں بھی کثرت کے ساتھ الہامات ہوئے تو آپ نے اس تجویز کے متعلق عملی قدم اٹھایا اور قادیان سے جنوبی جانب اپنے باغ کے ساتھ ایک قطعہ اراضی تجویز کر کے اس میں اس مقبرہ کی بنیاد قائم کی۔اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کو جنہیں عارضی طور پر ایک بکس میں دوسری جگہ دفن کر دیا گیا تھا اس نئے مقبرہ کی طرف منتقل کر دیا گیا۔اس مقبرہ کے قیام کے وقت آپ نے خدا سے الہام پا کر اس مقبرہ میں دفن ہونے کے لئے دوضروری شرطیں بھی مقرر فرمائیں:۔اول یہ کہ اس مقبرہ میں دفن ہونے والا ایک سچا اور مخلص مومن ہو جو متقی ہو اور محرمات سے پر ہیز کرنے والا اور ہر قسم کے شرک اور بدعت سے پاک ہو۔دوم یہ کہ وہ اسلام اور احمدیت کی خدمت کے لئے اپنی جائیداد کا کم از کم دسواں حصہ اور زیادہ سے زیادہ تیسرا حصہ پیش کرے اور اس بارے میں ایک با قاعدہ وصیت کر کے اپنے مال کا یہ حصہ سلسلہ کے نام پر لکھ دے۔مگر آپ نے یہ تصریح کی کہ اگر کوئی شخص کسی قسم کی جائیداد نہ رکھتا ہوتو پھر صرف شرط اول کافی ہوگی بشر طیکہ یہ ثابت ہو کہ ایسا شخص اپنی زندگی کو دین کے لئے وقف رکھتا تھا۔آپ نے اس مقبرہ کے انتظام کے لئے ایک کمیٹی مقرر فرمائی جس کا صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب کو مقرر کیا اور اس بات کو لازمی قرار دیا کہ اس کمیٹی میں کم از کم دو ممبر ایسے رہنے چاہئیں جو دین کے عالم ہوں اور سلسلہ کی تعلیم سے اچھی طرح واقفیت رکھتے ہوں آپ نے اس مقبرہ کے متعلق یہ بھی تصریح فرمائی کہ خدا نے جو یہ انتظام قائم کیا ہے اس سے یہ مطلب نہیں کہ یہ زمین کسی کو بہشتی کر دے گی بلکہ مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا تصرف فرمائے گا کہ صرف بہشتی ہی اس مقبرہ میں دفن کیا جائے گا اور دوسرے لوگ اس میں جگہ نہیں پاسکیں گے۔لے دیکھو ضمیمہ متعلقہ رسالہ الوصیت روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴ ۳۲ تا ۳۲۶