سلسلہ احمدیہ — Page 149
۱۴۹ غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔(۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا تب خدا تعالی دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق کے وقت میں ہوا۔جبکہ آنحضرت ﷺ کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانوں کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا۔۔سواے عزیز و! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دوقدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سواب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر د یوے۔اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہے ( یعنی میری وفات کے قریب ہونے کی خبر ) غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود نے اپنی اس وصیت میں خدا کے حکم سے جماعت کے لئے ایک خاص مقبرہ کی بھی تجویز فرمائی جس کا نام آپ نے بہشتی مقبرہ رکھا۔دراصل اس مقبرہ کے متعلق له رساله الوصیت، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۴ ۳۰ تا ۳۰۶