سلسلہ احمدیہ — Page 145
۱۴۵ ۱۹۰۵ء میں مرض کاربنکل سے بیمار ہوئے اور قریباً دو ماہ بیمار رہ کر ا/اکتوبر ۱۹۰۵ء کو نمونیا کی زائد تکلیف سے اپنے محبوب حقیقی سے جاملے۔حضرت مسیح موعود کو مولوی صاحب کی وفات کا ایسا ہی صدمہ ہوا جیسے ایک محبت کرنے والے باپ کو ایک لائق بیٹے کی وفات کا ہوا کرتا ہے مگر آپ کی محبت کا اصل مرکزی نکتہ خدا کا وجود تھا اس لئے آپ نے کامل صبر کا نمونہ دکھایا اور جب بعض لوگوں نے زیادہ صدمہ کا اظہار کیا اور اس بات کے متعلق فکر ظاہر کیا کہ مولوی عبدالکریم صاحب کی ذات کے ساتھ بہت سے کام وابستہ تھے اب ان کے متعلق کیا ہوگا تو آپ نے ایسے خیالات پر توبیخ فرمائی چنانچہ فرمایا:۔”مولوی عبدالکریم صاحب کی موت پر حد سے زیادہ غم کرنا ایک قسم کی مخلوق کی عبادت ہے کیونکہ جس سے حد سے زیادہ محبت کی جاتی ہے یا حد سے زیادہ اس کی جدائی کا غم کیا جاتا ہے وہ معبود کے حکم میں ہو جاتا ہے۔خدا ایک کو بلا لیتا ہے تو دوسرا اس کے قائم مقام کر دیتا ہے۔وہ قادر اور بے نیاز ہے لے حضرت مسیح موعود نے مولوی صاحب مرحوم کے سنگ مزار کے لئے ایک فارسی نظم بھی تحریر فرمائی جس میں آپ نے لکھا کہ:۔کے تواں کردن شمار خوبی عبدالکریم آں کہ جاں داد از شجاعت بر صراط حامی دیں آنکہ یزداں نام اولیڈر نہاد عارف اسرار حق گنجینه دین قویم گرچہ جنس نیکواں ایس چرخ بسیار آورد کم بزاید مادرے باایں صفا در یتیم دل بدرد آمد زہجر ایں چنیں یک رنگ دوست لیک خوشنودیم برفعلِ خداوند کریم یعنی مولوی عبد الکریم مرحوم کی خوبیاں کس طرح بیان کی جائیں۔وہ عبدالکریم جس نے دین کے رستہ میں شجاعت اور بہادری کے ساتھ لڑتے ه بدر جلد نمبر ۲۸ مورخه ۱۳/اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحه ۲ کالم ۳