سلسلہ احمدیہ — Page 5
مطلب تھا کہ وہ خود اپنے طور پر سات ہزار نو جوانوں کی فوج رکھ سکتے تھے اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ یہ منصب ایسا تھا کہ اس زمانہ میں بہت ہی کم لوگوں کو عطا ہوتا تھا۔اسی طرح مرزا فیض محمد صاحب کے فرزند مرزا گل محمد صاحب کے متعلق بھی خاندانی ریکارڈ سے پتہ لگتا ہے کہ دہلی کے دربار میں ان کی بہت عزت تھی اور بادشاہ وقت کے ساتھ ان کی خط و کتابت رہتی تھی اور ان کے عہد میں ایک دفعہ دربار دہلی کا وزیر غیاث الدولہ بھی قادیان آیا تھا اور ان کے مختصر مگر سنجیدہ اور بارعب در بار کو دیکھ کر بہت متاثر ہوا تھا۔مرزا گل محمد صاحب ایک نہایت متقی اور پارسا انسان تھے اور اپنے علاقہ میں بطور ایک ولی کے شہرت رکھتے تھے اور اس نیکی اور ولایت کے ساتھ ساتھ وہ ایک اعلیٰ درجہ کے مد بر اور جرنیل بھی تھے۔مرزا گل محمد صاحب نے ایک لمبا زمانہ پایا۔ان کے آخری ایام میں جبکہ مغلیہ سلطنت بہت کمزور ہوگئی پنجاب میں سکھوں نے طوائف الملو کی اختیار کر کے زور پکڑ لیا اور ان کا سب سے زیادہ زور پنجاب کے وسطی حصہ میں تھا جس میں قادیان واقع ہے۔اس وقت بانی کے بزرگوں کو نہایت سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور قادیان کی چھوٹی سی ریاست جو اس وقت تک قریباً آزاد ہو کر خود مختار ہو چکی تھی چاروں طرف سے سکھوں کے حملہ کا شکار ہونے لگی اور گومرزا گل محمد صاحب نے اپنی ہمت اور قابلیت کے ساتھ سکھوں کو غالب نہیں ہونے دیا مگر پھر بھی جدی ریاست کے بعض دیہات ان کے قبضہ سے نکل گئے۔لیکن ان کے بعد ان کے لڑکے مرزا عطا محمد صاحب کے زمانہ میں سکھ بہت زور پکڑ گئے۔حتی کہ وہ دن آیا کہ اس خاندان کو مغلوب ہو کر قادیان سے نکلنا پڑا۔یہ واقعہ غالبا۱۸۰۲ ء کا ہے جبکہ سکھوں کی ایک مشہور جنگجو پارٹی نے جو رام گڑھیہ مسل کہلاتی تھی قادیان پر جو اس وقت ایک قلعہ کی صورت میں تھا قبضہ حاصل کیا۔اس وقت اس خاندان پر سخت تباہی آئی اور وہ اسرائیلی قوم کی طرح اسیروں کی مانند پکڑے گئے اور ان کا سب مال و متاع لوٹ لیا گیا اور کئی مسجد میں اور مکانات مسمار کئے گئے اور باغات ویران کر دیئے گئے اور ایک قیمتی کتب خانہ بھی