سلسلہ احمدیہ — Page 134
۱۳۴ لوگوں کا ایسا رجوع ہوا کہ راستہ میں ہر سٹیشن پر زائرین کا اتنا ہجوم ہوتا تھا کہ پولیس اور محکمہ ریلوے کو انتظام کرنا مشکل ہو جاتا تھا اور جہلم میں تو لوگوں کی اتنی کثرت تھی کہ جہاں تک نظر جاتی تھی آدمی نظر آتے تھے اور حضرت مسیح موعود کی زیارت کے لئے دور دراز سے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے۔ان میں ایک حصہ اشد مخالف اور دشمن بھی تھا لیکن اکثر لوگ عقیدت اور زیارت کے لئے آئے تھے۔چنانچہ اس موقعہ پر جہلم میں قریباً ایک ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔اور لوگوں کی توجہ سے صاف نظر آتا تھا کہ جماعت کی ترقی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔اس کے بعد یہ مقدمہ جہلم میں ختم ہو کر گورداسپور میں جاری ہو گیا جو اس ضلع کا صدر مقام ہے جس میں قادیان واقع ہے اور پھر قریباً دو سال تک جاری رہا جس کے لئے حضرت مسیح موعود کو بعض اوقات لمبے لمبے عرصہ کے لئے گورداسپور میں جا کر ٹھہر نا پڑا کیونکہ مجسٹریٹ صاحب عموماً اتنی اتنی قریب کی تاریخیں مقرر کرتے تھے کہ قادیان آنا جانا باعث تکلیف تھا۔اس مقدمہ میں اوپر تلے دو مجسٹریٹ بدلے اور اتفاق سے دونوں ہندو تھے اور ان ایام میں یہ افواہ بہت گرم تھی کہ آریہ لوگ ان مجسٹریٹوں کے کان بھرتے رہتے ہیں کہ مرزا صاحب نعوذ باللہ دیکھرام کے قاتل ہیں اور اب اپنا قومی بدلہ اتارنے کا اچھا موقعہ ہے۔اور مجسٹریٹوں کے تیور بھی بدلے ہوئے نظر آتے تھے۔انہی ایام میں ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کو یہ اطلاع پہنچی کہ بعض آریوں نے مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ اس وقت یہ شخص آپ کے ہاتھ میں ایک شکار ہے اسے اب بیچ کر نہیں جانے دینا چاہئے۔اس وقت حضرت مسیح موعود چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے اور طبیعت کچھ خراب تھی مگر یہ بات سن کر آپ جوش کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے جوش کے ساتھ فرمایا۔” کیا یہ لوگ مجھے شکار سمجھتے ہیں؟ میں شکار نہیں ہوں۔میں تو خدا کا شیر ہوں اور خدا کے شیر پر کوئی ہاتھ تو ڈال کر دیکھے ! پھر تھوڑی دیر تک خاموش رہنے کے بعد فرمایا۔میں کیا کروں میں نے تو خدا سے کئی دفعہ عرض کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھوں میں لوہے کے کڑے پہننے کے لئے تیار ہوں مگر وہ مجھے بار بار یہی کہتا ہے کہ