سلسلہ احمدیہ — Page 131
۱۳۱ دیا۔شروع شروع میں تو وہ معمولی طور پر مخالفانہ مضامین لکھتے رہے لیکن ۱۹۰۲ء کے آخر میں انہوں نے جماعت احمدیہ کو مناظرہ کا چیلنج دیا۔حضرت مسیح موعود تو چونکہ ۱۸۹۶ء سے ہی اپنے متعلق یہ اعلان فرما چکے تھے کہ چونکہ مناظرہ میں ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوتی ہے اور عوام کے اخلاق پر بھی برا اثر پڑتا ہے اس لئے میں آئندہ کسی سے مناظرہ نہیں کروں گا لہذا جماعت کی طرف سے سلسلہ کے ایک عالم مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب مناظرہ کے لئے بھجوائے گئے اور بمقام مدضلع امرتسر یہ مناظرہ منعقد ہوا۔لیکن اس مناظرہ میں بھی اس تلخ تجربہ کے سوا اور کچھ حاصل نہ ہوا جو حضرت مسیح موعود کو پہلے مناظروں میں حاصل ہو چکا تھا یعنی یہ کہ تحقیق حق کی بجائے ضد اور ہٹ دھرمی نے ترقی کی۔اس پر حضرت مسیح موعود نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو چیلنج دیا کہ فیصلہ کا اصل طریق تو خدائی نصرت اور روحانی طاقت کا امتحان ہے۔پس اس کی طرف توجہ دینی چاہئے اور آپ نے لکھا کہ میں مناظرہ مد کے حالات کے متعلق ایک قصیدہ عربی زبان میں لکھتا ہوں مولوی صاحب کو جید عالم ہونے کا دعویٰ ہے سواگران میں طاقت ہے اور خدا کی نصرت ان کے ساتھ ہے تو اس کے مقابلہ پر ایسا ہی فصیح و بلیغ قصیدہ وہ بھی لکھ کر شائع کر دیں۔پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حق کس کے ساتھ ہے اور آپ نے فرمایا کہ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے مقررہ میعاد کے اندر اس قسم کا قصیدہ لکھ کر شائع کر دیا تو میں اپنی شکست ماننے کے علاوہ انہیں دس ہزار روپیہ انعام بھی دوں گا لے مگر افسوس کہ مولوی صاحب نے اس میدان میں قدم نہ رکھا۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب کی مخالفت دن بدن اور بھی تیز ہوتی گئی اور حضرت مسیح موعود کے آخری ایام میں تو وہ گویا ایک طرح مخالفانہ تحریک کے لیڈر بن گئے اور ان کا اخبار ”اہلحدیث“ امرتسر کے خلاف تحقیر آمیز پراپیگنڈے سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔اس پر حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۷ء میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق ایک اشتہار شائع کیا جس میں لکھا کہ لمبی قیل و قال سے کیا حاصل ہے۔فیصلہ کی آسان صورت یہ ہے کہ ہم دونوں اپنے مقدمہ کو خدا کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہم میں سے جو فریق جھوٹا ہے خدا اسے بچے کی زندگی میں ہلاک لخیص از اعجاز احمدی روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۷