سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 130 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 130

۱۳۰ بعد آہستہ آہستہ چندہ کی شرح بھی مقرر ہو گئی اور مدات میں بھی اس قدر را ضافہ ہو گیا کہ اب جماعت احمدیہ کا مجموعی بجٹ دس لاکھ روپے کے قریب ہوتا ہے اور اس عدد میں ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے مگر پھر بھی اس وسیع کام کے مقابلہ پر جو جماعت کے ذمہ ہے یہ رقم بالکل ناکافی اور غیر مکفی ثابت ہوتی ہے اور جماعت کی مدات ہمیشہ بھاری قرضہ کے نیچے دبی رہتی ہیں۔ایک نئے مخالف کا ظہور اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے جب حضرت مسیح موعود نے ابتداء میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا تو آپ کی مخالفت میں مسلمانوں میں اس کے متعلق خدائی نشان : سے سب سے زیادہ جوش دکھانے والا مولوی محمد حسین بٹالوی تھا۔مولوی صاحب نے کے ابتدائی سالوں میں مخالفت کو انتہا ء تک پہنچادیا اور گوملک کے اکثر مولوی اس مخالفت میں گرم جوشی کے ساتھ حصہ لے رہے تھے مگر ان سب کے لیڈر اور مدار المهام یہی مولوی صاحب تھے جو مسلسل طور پر کئی سال تک کی مخالفت میں پیش پیش رہے لیکن اب آہستہ آہستہ ان کا زور ٹوٹ رہا تھا اور وہ اپنی تمام قوت کو ختم کر کے اور مخالفت کو بے اثر پا کر کسی قدر ڈھیلے پڑ رہے تھے۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ کی مخالفت میں کمی آگئی تھی کیونکہ ان کے ست ہونے پر کئی دوسرے لوگ ان کی جگہ لینے کے لئے تیار تھے اور لے رہے تھے چنانچہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی بھی جن کا ذکر اوپر گزر چکا ہے انہی لوگوں میں سے تھے جو مولوی محمد حسین صاحب کے ڈھیلے پڑنے پر سلسلہ کی مخالفت میں آگے آ رہے تھے۔اسی طرح ایک صاحب با بو الہی بخش لاہور کے رہنے والے تھے جو کسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود کے معتقد بھی رہ چکے تھے مگر بعد میں مخالف ہو گئے تھے اور آجکل ان کی مخالفت زوروں پر تھی۔اسی طرح امرتسر کا غزنوی خاندان بھی شروع سے مخالفت میں پیش پیش چلا آیا تھا۔مگر اب ۹۱۰۲ء میں آکر ایک اور شخص آگے آیا جس کا نام مولوی ثناء اللہ تھا۔یہ صاحب امرتسر کے رہنے والے تھے ( یایوں کہنا چاہئے کہ رہنے والے ہیں کیونکہ وہ ایک خدائی نشان کے نتیجہ میں اب تک زندہ ہیں) اور جب انہوں نے مخالفت کے میدان میں قدم رکھا تو اسے انتہاء تک پہنچا