سلسلہ احمدیہ — Page 129
۱۲۹ مطابق اپنی خوشی سے دیتے رہتے تھے۔بے شک بعض دوست با قاعدہ ماہوار چندہ بھی دیتے تھے مگر یہ طریق ان کی اپنی خوشی پر موقوف تھا اور حضرت مسیح موعود کی طرف سے کوئی ایسی تحریک نہیں تھی کہ ہر شخص ضرور با قاعدہ ماہوار چندہ دے۔علاوہ ازیں شروع میں سلسلہ کا کام زیادہ تر تین مدات میں منقسم تھا یعنی اول کتب اور رسالہ جات کی اشاعت جن میں سے ایک معقول حصہ مفت تقسیم کیا جاتا تھا۔دوم اشتہارات کی اشاعت جو کلیۂ مفت تقسیم ہوتے تھے۔سوم مہمان نوازی کا خرچ جو دن بدن زیادہ ہو رہا تھا۔ان کے علاوہ کسی قدر خط و کتابت اور غریب احمدیوں کی امداد کا خرچ بھی تھا۔یہ سارے اخراجات ان چندوں سے پورے کئے جاتے تھے جو جماعت کے دوست اپنی خوشی سے بھجواتے رہتے تھے۔لیکن اب نہ صرف ہر مد کا خرچ بڑھ گیا تھا اور خصوصاً مہمانخانہ کا خرچ بہت زیادہ ہو گیا تھا بلکہ بعض نئی مدات بھی نکل آئی تھیں۔مثلاً تعلیم الاسلام ہائی سکول کا چندہ۔ریویو آف ریلیجنز کا چندہ امدادی وغیرہ اس لئے حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۲ء میں ایک اشتہار کے ذریعہ جماعت کے نام یہ ہدایت جاری فرمائی کہ آئندہ ہر احمدی با قاعدہ ماہواری چندہ دیا کرے جس میں کسی صورت میں تخلف نہ ہو۔آپ نے اس چندہ کی کوئی شرح مقر رنہیں فرمائی بلکہ رقم کی تعین کو ہر شخص کے اخلاص اور حالات پر چھوڑ الیکن یہ لازم قرار دیا کہ ہر شخص اپنے لئے ایک رقم معین کر کے اطلاع دے کہ وہ کس قدر چندہ ماہوار دے سکتا ہے اور پھر جس قدر رقم کا وہ وعدہ کرے خواہ وہ ایک پیسہ ہی ہو وہ با قاعدہ ہر ماہ بھجواتا رہے اور آپ نے اس بارے میں اس قدر تاکید فرمائی کہ حکم دیا کہ جو شخص اس قسم کی پابندی اختیار نہیں کرے گا یا رقم مقرر کرنے کے بعد پھر تین ماہ تک رقم کی ادائیگی میں غفلت سے کام لے گا اسے جماعت سے خارج کر دیا جائے گا اور سمجھا جائے گا کہ اس الہی سلسلہ کے ساتھ اس کا تعلق حقیقت اور اخلاص پر مبنی نہیں ہے کیونکہ جو شخص صداقت کی خاطر ادنی قربانی کے لئے بھی تیار نہیں ہوسکتا اور اس قربانی پر دوام اختیار نہیں کرتا وہ سچا احمدی نہیں سمجھا جاسکتا۔یہ وہ بنیادی اینٹ تھی جس پر سلسلہ کے چندوں اور محاصل کی عمارت کھڑی ہوئی ہے اس کے لے اشتہار مورخه ۵/ مارچ ۱۹۰۲ تلخیص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۵۶ جدید ایڈیشن