سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 108 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 108

۱۰۸ کو یہ اطلاع ملی کہ آپ کے ایک مرید نے آپ کے متعلق بیان کیا ہے کہ آپ کو نبوت کا دعویٰ نہیں ہے تو آپ نے اسے تنبیہ فرمائی اور اس کی غلطی کے ازالہ کے لئے ایک اشتہار لکھ کر شائع کیا جس میں تصریح کے ساتھ لکھا کہ مجھے صرف شریعت والی نبوت یا اپنی ذات میں مستقل نبوت سے انکار ہے ورنہ خالی اور بروزی نبوت سے انکار نہیں ہے اور میں اس بات کا مدعی ہوں کہ آنحضرت ﷺ کے فیض سے اور آپ کی اتباع میں مجھے خدا نے بروزی رنگ میں نبوت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے۔چنانچہ آپ نے اپنے اشتہار ایک غلطی کا ازالہ میں ۱۹۰۱ء میں لکھا کہ :۔چند روز ہوئے ہیں کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا۔حالانکہ ایسا جواب صحیح نہیں ہے۔حق یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں۔نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہا دفعہ۔پھر کیونکر یہ جواب صحیح ہو سکتا ہے کہ ایسے الفاظ موجود نہیں ہیں۔بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں۔اگر یہ کہا جائے ہیں۔۔کہ آنحضرت ﷺ تو خاتم النبین ہیں۔پھر آپ کے بعد اور نبی کس طرح آسکتا ہے؟ اس کا جواب یہی ہے کہ بے شک اس طرح سے تو کوئی نبی نیا ہو یا پرانا نہیں آسکتا جس طرح آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کو آخری زمانہ میں اتارتے ہیں نبوت کی تمام کھڑکیاں بند کی گئیں مگر ایک کھڑ کی سیرت صدیقی کی کھلی ہے یعنی فنافی الرسول کی۔پس جو شخص اس کھڑکی کی راہ سے خدا کے پاس آتا ہے اس پر بلی طور پر وہی بہوت کی چادر پہنائی جاتی ہے جو نبوت محمدی کی چادر ہے۔اس لئے اس کا نبی ہونا غیرت کی جگہ نہیں کیونکہ وہ اپنی ذات سے نہیں بلکہ