سلسلہ احمدیہ — Page 96
۹۶ یہ زمانہ جماعت کے لئے ایک نہایت سخت زمانہ تھا جسے ایک اونچے اور تیز ڈھال والے پہاڑ کی چڑھائی سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے۔بے شک جماعت کی ترقی کا قدم کبھی نہیں رکا لیکن اس خطر ناک مخالفت کے مقابلہ پر جس نے جماعت کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اس کی رفتار اس قدر دھیمی تھی کہ اس کے دشمن ہر آن یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ بس یہ سلسلہ آج بھی مٹا اور کل بھی مٹا۔اور خود حضرت مسیح موعود کے لئے بھی یہ ابتدائی زمانہ سخت پریشانی اورگھبراہٹ کا زمانہ تھا اور جماعت کی یہ رینگنے والی چال آپ کی بجلی کی طرح اڑنے والی روح کو بیتاب کر رہی تھی۔مگر آپ جانتے تھے کہ ہر نبی کے زمانہ میں یہی ہوا کرتا ہے اور یہ کہ اس سخت امتحان میں سے گزرنے کے بغیر چارہ نہیں اور خود جماعت کی مضبوطی اور اخلاص کی ترقی کے لئے بھی یہ مخالفت ضروری ہے۔پس آپ نے ہمت نہیں ہاری اور آپ کی فولادی میخیں آہستہ آہستہ مگر یقینی اور قطعی صورت میں آگے ہی آگے دھستی گئیں حتی کہ اس زمانہ میں جس کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں یعنی انیسویں صدی کے انتہاء اور بیسیویں صدی کے آغاز میں جماعت احمدیہ کی تعداد حضرت مسیح موعود کے اپنے اندازے میں تمیں ہزار کے قریب پہنچ چکی تھی۔یہ تعداد جماعت کی ابتداء کے لحاظ سے کافی بڑی تعداد تھی مگر اس کے انتہاء اور اس کی غرض و غایت کے لحاظ سے اتنی بھی نہیں تھی جسے آٹے میں نمک کہا جا سکے اور ابھی آپ کا کام ایک فلک بوس پہاڑ کی طرح آپ کے سامنے کھڑا تھا۔یہ درست ہے کہ نبی کا کام صرف تخم ریزی کرنا ہوتا ہے مگر تخم ریزی کا کام بھی کچھ وقت لیتا ہے اور پھر کونسا با غبان یہ خواہش نہیں رکھتا کہ وہ اپنی تخم ریزی کا تھوڑا سا شمرہ خود اپنی آنکھوں سے بھی دیکھ لے۔بے شک نبی کا کام نفسانیت پر مبنی نہیں ہوتا اور وہ اپنے بعد میں آنیوالی ترقیوں کو بھی اسی نظر سے دیکھتا ہے جس طرح وہ اپنے وقت کی ترقیوں کو دیکھتا ہے مگر پھر بھی وہ انسان ہوتا ہے اور اس کا دل ان جذبات سے خالی نہیں ہوتا کہ ان ترقیوں کی تھوڑی سی جھلک اسے بھی نظر آ جاوے۔یقینا وہ مٹی میں چھپے ہوئے بیج کو بھی ایک درخت کی صورت میں دیکھتا ہے مگر اس کے بشری جذبات کا دل اس خواہش سے بالا نہیں ہوتا کہ میں کم از کم اس بیج کومٹی سے باہر نکلتا ہوا