سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 92 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 92

۹۲ کے متعلق قرآن شریف یا حدیث وغیرہ میں کہیں کہیں ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے یا بعض جگہ آپ کے استغفار کا ذکر آتا ہے یہ آپ کی معصومیت کے خلاف نہیں بلکہ اس سے آپ کی ارفع شان کا اور بھی کمال ظاہر ہوتا ہے کیونکہ ذنب سے عربی زبان میں گناہ اور نافرمانی مراد نہیں جس کے لئے عربی میں اثم اور جرم اور فسق وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔بلکہ ذنب کا لفظ ایسی بشری کمزوریوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جو انسان کے اندر خلقی اور پیدائشی رنگ میں رکھی گئی ہیں۔مثلاً انسان کے علم کا محدود ہونا یا اس کی طاقتوں کا محدود ہونا یا اس کی عمر کا محدود ہونا وغیر ذالک۔پس آنحضرت ﷺ نے جو اپنے ذنوب یا کمزوریوں کے متعلق استغفار کی دعا کی ہے یا خدا نے آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے تیرے سارے ذنوب معاف فرما دیئے تو ان سے یہی خلقی اور پیدائشی کمزوریاں اور کوتاہیاں مراد ہیں جو ہر انسان کے ساتھ طبعا لاحق ہیں۔گویا آنحضرت ﷺ جب استغفار کرتے تھے تو بالفاظ دیگر آپ یہ دعا فرماتے تھے کہ خدایا میں تو تیرے دین کی اشاعت میں ہر طرح سے مصروف ہوں اور میں نے اپنی جان کو اس رستہ میں ہلاکت کے کنارے تک پہنچارکھا ہے مگر میں بہر حال ایک انسان ہوں اس لئے باوجود میری اس کوشش کے پھر بھی جو خامی یا کمزوری باقی رہ جائے اسے تو اپنے فضل اور اپنی نصرت کے ہاتھ سے پورا فرما دے اور میری بشری کمزوریوں کو دین کی ترقی کے رستے میں روک نہ بننے دے۔اور آپ کی اس دعا کے جواب میں خدا نے یہ وعدہ فرمایا کہ ہاں ہم تیری انسانی کمزوریوں کی خامی کو اپنے فضل اور نصرت کے ہاتھ سے خود پورا کر دیں گے۔پس جس قسم کے نام نہاد گناہ کی وجہ سے آپ پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ دراصل آپ کے کمال اور آپ کی ارفع شان کی دلیل ہے۔مگر اس کے مقابل پر حضرت مسیح ناصری کا یہ حال ہے کہ باوجود خدائی کے دعویدار ہونے کے اور باوجود انسانی کمزوریوں سے بالا سمجھے جانے کے وہ اپنے متعلق صاف فرماتے ہیں کہ مجھے نیک نہ کہو نیک صرف ایک ہے جو آسمان میں ہے اور شیطان ان کی آزمائش کے لئے بار بار حیلے کر کے آتا ہے۔ان حالات کے ہوتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ گناہگار سمجھنا اور حضرت مسیح ناصری کو