سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 91 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 91

۹۱ مسیح ہونے کے مدعی ہیں جس میں ہمارے خدواند کی سخت ہتک ہے اس لئے میں ایسے شخص کے مقابلہ پر کھڑا نہیں ہوسکتا اور اس طرح ایک نہایت عمدہ موقعہ اسلام اور میسحیت کے مقابلہ کا ضائع ہو گیا۔لیکن ملک کے سمجھدار طبقہ نے محسوس کر لیا کہ حق کس کے ساتھ ہے۔مگر عصمت انبیاء کے مسئلہ میں بھی حضرت مسیح موعود نے ڈاکٹر لیفر ائے کے چیلنج کو خالی نہیں جانے دیا بلکہ اس مضمون پر رسالہ ریویو آف ریجنز قادیان میں ایک سلسلہ مضامین لکھ کر تمام دوسرے مذاہب کے دانت کھٹے کر دیئے اور ثابت کیا کہ گو سارے نبی ہی اپنی جگہ معصوم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں گناہ کے ارتکاب سے بچاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعہ اس نے دنیا میں ایک نمونہ قائم کرنا ہوتا ہے مگر حقیقی معصومیت صرف آنحضرت ﷺ کو حاصل ہے۔کیونکہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی زندگی عطا فرمائی جس میں آپ کو ہر شعبہ زندگی سے واسطہ پڑا اور آپ پر ہر فطری خلق کے اظہار کا موقعہ آیا یعنی آپ حاکم بھی بنے اور محکوم بھی۔دوست بھی بنے اور دشمن بھی۔بیٹا بھی بنے اور باپ بھی۔خاوند بھی بنے اور خسر بھی۔جرنیل بھی بنے اور مدبر بھی۔غریب بھی بنے اور امیر بھی۔فاتح بھی بنے اور مفتوح بھی۔معاہد بھی بنے اور حلیف بھی۔مزدور بھی بنے اور آقا بھی۔قارض بھی بنے اور مقروض بھی۔عاشق بھی بنے اور معشوق بھی۔غرض انسانی اخلاق کے ہر میدان میں آپ کا قدم پڑا اور آپ نے ہر میدان میں اعلیٰ اخلاق کا وہ نمونہ قائم کیا جس کی نظیر دنیا میں کسی جگہ نظر نہیں آتی۔بھلا اس عالی شان اور دلوں کو مسخر کر لینے والے منظر کے مقابلہ میں حضرت مسیح ناصری یا کسی اور شخص کی کیا حیثیت ہے جنہیں زندگی کے بہت ہی تھوڑے شعبوں سے حصہ ملا اور ان میں بھی انہوں نے چند اصولی اور خیالی تعلیموں کے سواد نیا کو کوئی عملی سبق نہیں دیا۔پس ان کی معصومیت ایسی ہی ہے کہ جیسے ایک بکری یہ دعویٰ کرے کہ میں بھیڑیوں اور شیروں کو تکلیف نہیں دیتی اور نہ دوسرے جانوروں کو چیر پھاڑ کر اپنی غذا بناتی ہوں۔حضرت مسیح موعود نے اپنے ان مضامین میں یہ تشریح بھی فرمائی کہ یہ جو آنحضرت ﷺ ے دیکھور سالہ ریویو آف ریلیجنز جلد نمبر انمبر9