سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 90 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 90

۹۰ بشپ صاحب کی سی پوزیشن کا انسان اس قسم کی تحقیق کے لئے آمادہ ہوا ہے مگر ساتھ ہی تشریح فرمائی کہ معصومیت کا مفہوم غلط نہی پیدا کرنے کے علاوہ ایک نہایت محدود مفہوم ہے کیونکہ اول تو معصومیت کی تعریف میں مختلف قوموں کے درمیان بہت بڑا اختلاف ہو سکتا ہے یعنی ممکن ہے کہ ایک قوم کے نزدیک ایک بات گناہ میں داخل ہو اور دوسری کے نزدیک وہی بات کا ثواب سمجھی جائے پس کس معیار سے فیصلہ کیا جائے کہ کون زیادہ معصوم ہے؟ علاوہ ازیں معصومیت کا حقیقی اظہار گناہ کی طاقت کے موجود ہونے سے ہوتا ہے اور جس شخص کو کسی خاص قسم کے گناہ یا ظلم یا بداخلاقی کی طاقت ہی نہ ہو اسے اس گناہ یا ظلم یا بد اخلاقی سے مجتنب رہنے کی وجہ سے معصوم یا قابل تعریف نہیں سمجھا جاسکتا۔پس اس لحاظ سے بھی حقیقی معصومیت کا فیصلہ آسان نہیں ہے۔دوسرے محض معصومیت ایک منفی قسم کی خوبی ہے اور نہایت محدود پہلو رکھتی ہے اور اصل کمال یہ ہے کہ کسی انسان میں مثبت قسم کی خوبیاں اعلی پیمانہ پر جمع ہوں پس آپ نے لکھا کہ گو میں ثابت کر سکتا ہوں کہ حقیقی معصومیت میں بھی مسیح ناصری کو آنحضرت ﷺ سے کوئی نسبت نہیں لیکن دنیا کو اس بحث سے چنداں فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔پس اگر بشپ صاحب کو واقعی سچائی کی تڑپ ہے تو مسیح اور مقدس بانی اسلام کے کمالات کے بارے میں ہم سے مقابلہ کر لیں۔یعنی اصل موضوع یہ قرار دیا جائے کہ ان دونو نبیوں میں سے کمالات ایمانی اور اخلاقی اور برکاتی اور تاثیراتی اور قولی اور فعلی اور عرفانی اور علمی اور تقدسی اور طریق معاشرت کی رو سے کون نبی افضل اور اعلیٰ ہے۔اور آپ نے لکھا کہ اگر بشپ صاحب کو یہ طریق منظور ہو تو ہمیں اطلاع دیں پھر ہماری جانب سے کوئی شخص تاریخ مقررہ پر حاضر ہو جائے گا۔اس کے بعد آپ نے اپنی جماعت کے بعض سر کردہ اشخاص کے ذریعہ بشپ صاحب کو پرائیویٹ خطوط بھی لکھوائے اور بار بار دعوت دی کہ وہ اس مقابلہ کے لئے آگے آئیں اور بعض معزز اخبارات مثلاً پا نیئر الہ آباد وغیرہ نے بھی پر زور تحریک کی کہ بشپ صاحب کو اس مقابلہ کے لئے آگے آنا چاہئے مگر بشپ صاحب موصوف نے اس بودے اور فضول عذر پر انکار کر دیا کہ چونکہ مرزا صاحب ے دیکھو اشتہار مورخه ۲۵ مئی ۱۹۰۰ ملخص از مجموعه اشتہارات جلد دوم صفحه۳۷۹ تا ۳۸۳ جدید ایڈیشن