سلسلہ احمدیہ — Page 81
ΔΙ نے اس سال میں خدا سے علم پا کر جماعت کی تنظیم و تربیت کے متعلق دو مزید احکامات جاری فرمائے یعنی اول تو آپ نے اس بات کا اعلان فرمایا کہ آئندہ کوئی احمدی کسی غیر احمدی کی امامت میں نماز ادا نہ کرے بلکہ صرف احمدی امام کی اقتداء میں نماز ادا کی جاوے یہ حکم ابتداء ۱۸۹۸ء میں زبانی طور پر جاری ہوا تھا مگر بعد میں ۱۹۰۰ء میں تحریری طور پر بھی اس کا اعلان کیا گیا۔آپ کا یہ فرمان جو خدائی منشاء کے ماتحت تھا اس حکمت پر مبنی تھا کہ جب غیر احمدی مسلمانوں نے آپ کے دعوی کو رد کر کے اور آپ کو جھوٹا اور مفتری قرار دے کر اس خدائی سلسلہ کی مخالفت پر کمر باندھی ہے جو خدا نے اس زمانہ میں دنیا کی اصلاح کے لئے جاری کیا ہے اور جس سے دنیا میں اسلام اور روحانی صداقت کی زندگی وابستہ ہے تو اب وہ اس بات کے مستحق نہیں رہے کہ کوئی شخص جو حضرت مسیح موعود پر ایمان لاتا ہے وہ آپ کے منکر کی امامت میں نماز ادا کرے۔نماز ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی عبادت ہے اور اس کا امام گویا خدا کے دربار میں اپنے مقتدیوں کا لیڈر اور زعیم ہوتا ہے۔پس جو شخص خدا کے مامور کو رد کر کے اس کے غضب کا مورد بنتا ہے وہ ان لوگوں کا پیشرو نہیں ہو سکتا جو اس کے مامور کو مان کر اس کی رحمت کے ہاتھ کو قبول کرتے ہیں۔اس میں کسی کے برا منانے کی بات نہیں ہے۔بلکہ یہ کے قیام کا ایک طبعی اور قدرتی نتیجہ تھا جو جلد یا بدیر ضرور ظاہر ہونا تھا۔چنانچہ حدیث میں بھی اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ جب مسیح موعود آئے گا تو اس کے متبعین کا امام انہی میں سے ہوا کرے گا چنانچہ حضرت مسیح موعودا اپنی جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں:۔یا درکھو کہ جیسا کہ خدا نے مجھے اطلاع دی ہے تمہارے پر حرام ہے اور قطعی حرام ہے کہ کسی ملکفر یامکذب یا متر ڈو کے پیچھے نماز پڑھو۔بلکہ چاہئے کہ تمہارا وہی امام ہو جو تم میں سے ہو۔اسی کی طرف حدیث بخاری کے ایک پہلو میں اشارہ ہے کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ یعنی جب مسیح نازل ہوگا تو تمہیں دوسرے فرقوں کو جود عولی اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا اور تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔دوسری ہدایت جو آپ نے اپنی جماعت کے لئے جاری فرمائی وہ احمدیوں کے رشتہ ناطہ تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد۷ اصفحہ ۶۴ حاشیہ