سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 29 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 29

۲۹ مبعوث کیا ہے۔اس کے سوا کوئی اور دعویٰ نہیں تھا۔نہ مسیح ہونے کا نہ مہدی ہونے کا ، نہ نبی اور رسول ہونے کا اور نہ تمام قوموں کے آخری موعود ہونے کا۔اس لئے اس وقت تک مسلمانوں میں آپ کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی بلکہ عموماً آپ کو اسلام کا ایک نہایت قابل جرنیل خیال کیا جاتا تھا اور لوگ آپ کے غیر معمولی تقویٰ اور طہارت اور جذبہ خدمت دین کے قائل تھے اور آپ کے وجود کو اپنے لئے ایک مضبوط سہارا دین کے لئے ایک پختہ ستون سمجھتے تھے۔اور دوسری قومیں بھی آپ کو اسلام کا ایک عدیم المثال جرنیل خیال کرتی تھیں اور آپ کی زبر دست تحریروں سے خائف تھیں۔مگر جیسا کہ ذیل کی سطور سے ظاہر ہوگا یہ صورتِ حال زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔مسیحیت کا دعویٰ اور مخالفت کا طوفانِ بے تمیزی:۔۱۸۹۰ء اور ۱۸۹۱ء کے سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی کے خاص سال تھے کیونکہ ان میں حضرت مسیح موعود پر خدا تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کا انکشاف ہوا جس نے آپ کے متعلق لوگوں کے رخ کو بالکل بدل دیا۔اور آپ کے خلاف مخالفت کا وہ طوفان بے تمیزی اٹھ کھڑا ہوا جس کی نظیر سوائے انبیاء کے زمانے کے اور کسی جگہ نہیں ملتی۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ ۱۸۹۰ ء کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر الہاما ظاہر کیا کہ حضرت عیسی علیہ السلام جنہیں عیسائی اور مسلمان دونوں آسمان پر زندہ خیال کر رہے ہیں اور آخری زمانہ میں ان کی دوسری آمد کے منتظر ہیں وہ دراصل وفات پاچکے ہیں اور ان کے آسمان پر جانے اور آج تک زندہ چلے آنے کا خیال بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے اور یہ کہ ان کی دوسری آمد کا وعدہ ایک مثیل کے ذریعہ پورا ہونا تھا اور آپ کو بتایا گیا کہ یہ مثیل مسیح خود آپ ہی ہیں۔چنانچہ جو الہامات اس بارے میں آپ کو ہوئے ان میں سے ایک الہام یہ تھا کہ :۔مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللَّهِ مَفْعُولًا۔“ اس عظیم الشان انکشاف پر آپ نے ۱۸۹۱ء کے شروع میں رسالوں اور اشتہاروں کے ذریعہ ل تذکره صفحه ۱۴۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء