سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 28 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 28

۲۸ کی مختصر تاریخ حضرت مسیح موعود کا زمانہ جماعت کا سنگ بنیاد :۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماموریت کا پہلا الہام مارچ ۱۸۸۲ء میں ہوا تھا جس کے بعد آپ نے اشتہاروں وغیرہ کے ذریعہ تمام دنیا میں اپنے دعویٰ مجددیت کا اعلان فرما دیا مگر چونکہ ابھی تک آپ کو بیعت لینے کا حکم نہیں ہوا تھا اس لئے آپ نے بیعت کا سلسلہ شروع نہیں کیا اور بدستور عام رنگ میں اسلام کی خدمت میں مصروف رہے۔پھر جب ۱۸۸۸ء کا آخر آیا تو آپ نے خدا سے حکم پا کر بیعت کا اعلان فرمایا اور پہلے دن کی بیعت میں جو مارچ ۱۸۸۹ء میں بمقام لدھیانہ ہوئی چالیس افراد نے آپ کے ہاتھ پر تو بہ اور اخلاص اور اطاعت کا عہد باندھا جس میں ہر بیعت کنندہ سے خصوصیت کے ساتھ یہ اقرار لیا جاتا تھا کہ ” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ابتدائی بیعت میں بیشتر طور پر وہی لوگ شامل تھے جو پہلے سے آپ کے زیر اثر آ کر آپ کی صداقت کے قائل ہو چکے تھے۔انہی میں حضرت مولوی نورالدین صاحب بھی تھے جو ایک بہت بڑے دینی عالم اور نہایت ماہر طبیب تھے اور ان ایام میں مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کے دربار میں بطور شاہی طبیب کے ملازم تھے حضرت مولوی صاحب موصوف ایک نہایت جید عالم تھے اور قرآن کریم کی تفسیر کا خاص علم اور خاص ملکہ رکھتے تھے اور اسلام کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لٹریچر پر بھی ان کی نظر نہایت وسیع تھی وہ پہلے دن کی بیعت میں اول نمبر پر تھے اور انہیں یہ امتیاز اور فخر بھی حاصل ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو ۱۹۰۸ء میں ہوئی وہ جماعت کے پہلے خلیفہ ہوئے۔حضرت مولوی صاحب بھیرہ ضلع شاہ پور کے رہنے والے تھے۔اس ابتدائی بیعت کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ صرف مجدد ہونے کا تھا یعنی یہ کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی چودھویں صدی کے سر پر دین کی خدمت اور اسلام کی تجدید کے لئے ا دیکھو اشتہار یکم دسمبر ۱۸۸۸ء ۱۲ جنوری ۱۸۸۹ء مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ ۵۸ جدید ایڈیشن