سلسلہ احمدیہ — Page 366
۳۶۶ ہندو لیڈروں نے جو حقیقت حال سے اچھی طرح واقف تھے مسلمان لیڈروں سے کہا کہ جناب! آپ لوگ کس خیال میں ہیں؟ یہ تو سارا کھیل ہی احمدیوں کا ہے پس آپ انہیں الگ رکھ کر کس حیثیت میں سمجھوتہ کریں گے اور کیا سمجھوتہ کریں گے؟ اس پر مسلمان لیڈروں کو مجبوراً حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی خدمت میں لکھنا پڑا کہ وہ اپنے نمائندے بھجوائیں مگر جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے اس سمجھوتہ میں ہند و صاحبان کی ساری کوشش یہ تھی کہ جو کچھ ہو چکا ہے اسے قائم رہنے دیا جائے اور آئندہ کے لئے دونوں فریق میدان سے ہٹ جائیں۔مگر ظاہر ہے کہ یہ صورت اسلام کے لئے سراسر نقصان دہ تھی کیونکہ اس کا یہ مطلب تھا کہ شدھی شدہ مسلمان بدستور ہندور ہیں اور مسلمان ان کو واپس لانے کی کوشش ترک کر دیں۔پس حضرت خلیفتہ المسیح نے اس سمجھوتہ سے صاف انکار کردیا اور فرمایا کہ جب تک شدھ شدہ مسلمانوں میں سے ایک فرد واحد بھی باقی ہے ہم اس مہم کو نہیں چھوڑیں گے۔پس ہند و صاحبان کی یہ سیاسی تدبیر ناکام رہی اور بالآخر خدا نے اس میدان میں احمدیوں کو ایسی نمایاں کامیابی عطا فرمائی کہ دوست و دشمن مرحبا پکار اٹھے اور اس تحریک نے دنیا پر یہ بھی ظاہر کر دیا کہ اس زمانہ میں اگر اسلام کا سچا در درکھنے والی اور اسلام کی حقیقی خدمت کرنے والی کوئی جماعت ہے تو وہ صرف احمد یہ جماعت ہے۔اچھوت اقوام میں تبلیغ :۔حضرت خلیفتہ اسی ثانی کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ ہندوستان کی ا۔اچھوت اقوام میں تبلیغ کی جاوے۔تبلیغ کے عام فرض کے علاوہ آپ نے یہ سوچا تھا کہ ہندوستان میں ان قوموں کی تعداد کئی کروڑ ہے اور ہندو لوگ انہیں مفت میں اپنا بنائے بیٹھے ہیں۔پس اگر ان قوموں میں اسلام اور احمدیت کی تبلیغ ہو اور خدا انہیں ہدایت دے دے تو ان کی اپنی نجات کے علاوہ اس سے اسلام کو بھی بھاری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔آپ کے اس خیال نے ارتداد ملکانہ کے ایام میں مزید تقویت حاصل کر لی اور آپ نے ایک سکیم بنا کر پنجاب کی اچھوت قوموں میں تبلیغ شروع فرما دی اور ان کے لئے ایک خاص عملہ علیحدہ مقرر کر دیا۔آپ کی اس کوشش کو خدا نے جلد ہی بار آور کیا اور تھوڑے عرصہ