سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 346 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 346

۳۴۶ خوش قسمت ہوگا جو اس زمانہ کا ایک مفصل مرقع تیار کرنے کی سعادت پائے۔جنگ عظیم اور جماعت احمدیہ :۔جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں خلافت ثانیہ کا آغاز روحانی فضا میں بادلوں کی گرج اور بجلیوں کی کڑک کے اندر ہوا تھا۔ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ ایک محض اتفاق تھا یا کہ آسمانی تقدیر کا ایک اور مخفی کرشمہ تھا کہ خلافت ثانیہ کے آغاز کے چند ماہ کے اندراندر ہی اس دنیا کی مادی فضا میں بھی تاریک بادلوں کی گرجوں نے ایک غیر معمولی طوفان پیدا کر دیا۔خلافت ثانیہ کی ابتداء ۱۹۱۴ء کے ماہ مارچ میں ہوئی اور اسی سال کے ماہ اگست میں دنیا کی وسیع سٹیج پر اس جنگ عظیم کا آغاز ہوا جس کے متعلق یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اس سے پہلے دنیا میں کوئی جنگ اس قدر وسیع پیمانہ پر اور اس قدر ہیبت ناک مناظر کے ساتھ نہیں ہوئی۔اور جب یہ آگ ایک دفعہ شروع ہوئی تو پھر اس سرعت کے ساتھ پھیلی کہ جنگ کے اختتام سے قبل دنیا کا بیشتر حصہ کسی نہ کسی جہت سے اس کی لپیٹ میں آچکا تھا۔جیسا کہ ہم حضرت مسیح موعود کے سوان کے ذکر میں بتا چکے ہیں آپ نے خدا سے علم پا کر ۱۹۰۵ء میں اس خطر ناک تباہی کی پیشگوئی فرمائی تھی اور اس کی تباہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہ خبر بھی دی تھی کہ اس عالمگیر زلزلہ میں زار روس پر بھی ایک تباہ کن مصیبت آئے گی۔لے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ جنگ کے اختتام سے قبل ہی زار روس کے اقبال کی صف لپیٹ دی گئی۔کا اس جنگ میں چونکہ حکومت انگریزی بھی شریک تھی اس لئے جماعت احمدیہ نے اپنے مقدس بانی کی تعلیم کے ماتحت ایک وفادار شہری کا پورا پورا حق ادا کیا اور حکومت وقت کو اپنی طاقت سے بڑھ کر جان و مال سے مدد پہنچائی۔یہ سب امداد ایک اصول کے ماتحت تھی اور اگر انگریزوں کے سوا کسی اور کی حکومت ہوتی تو اس کے ساتھ بھی یہی وفاداری کا سلوک کیا جاتا کیونکہ اسلام کی یہ تعلیم ہے جسے احمدیت نے بڑے زور کے ساتھ پیش کیا ہے کہ حکومت وقت کے ساتھ اور خصوصاً ایسی حکومت کے ساتھ جنس کے ذریعہ ملک میں امن قائم ہو تعاون اور وفاداری کا سلوک ہونا چاہئے اور جماعت احمدیہ کے لئے تو سب سے زیادہ قیمتی چیز ہی مذہب اور اشاعت مذہب اور تبدیل مذہب کی آزادی ہے۔پس ے براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۲