سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 341 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 341

۳۴۱ کی وفات کے بعد ہوئی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کے زمانہ کی تحریر یں تو خیر صاف ہی ہیں جن میں یہ لوگ کثرت کے ساتھ حضرت مسیح موعود کی نبوت کا اقرار کرتے رہے ہیں حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں بھی ان میں سے کئی ایک اصحاب نے اپنی تحریرات میں حضرت مسیح موعود کی نبوت کا اقرار کیا ہے اور اپنے مضمونوں اور تقریروں میں حضرت مسیح موعود کو نبی کہہ کر پکارتے رہے ہیں۔لیکن چونکہ مقدم الذکر دو عقیدوں پر قائم رہتے ہوئے یہ لوگ نبوت کے متعلق اپنے عقیدہ کو بدلنے پر مجبور تھے اس لئے انہوں نے آہستہ آہستہ یہ تیسر اعقیدہ بھی تبدیل کرلیا۔دراصل اس ساری تبدیلی کی تہ میں یہ جذ بہ مخفی تھا کہ یہ لوگ موجودہ زمانہ کی پئین اسلامک تحریک کے ماتحت اس خیال سے حد درجہ متاثر تھے کہ سب مسلمانوں کو آپس میں مل کر رہنا چاہئے اور درمیانی اختلافات کو مٹا کر ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جانا چاہئے۔اس خیال کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ وہ آہستہ آہستہ احمدیت کے ان مخصوص عقائد سے متزلزل ہونے شروع ہو گئے جو ان کے خیال میں احمد بیت کو اس زمانہ کے دوسرے مسلمانوں سے علیحدہ کر رہے تھے۔ان کا یہ میلان حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی ایک حد تک موجود تھا لیکن حضرت مسیح موعود کی مقناطیسی شخصیت نے ہر قسم کے تشقت کے خیال کو دبائے رکھا اور جماعت میں کسی خارجی تحریک کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔اور جماعت کی خصوصیات کو سختی کے ساتھ قائم رکھا۔لیکن جب آپ وفات پاگئے تو پھر آہستہ آہستہ ان لوگوں کے خیالات نے پلٹا کھانا شروع کیا اور یکے بعد دیگرے احمدیت کے ایک ایک قلعہ کو نقب لگتی گئی۔سلسلہ کے اندرونی اختلافات کا یہ نظریہ ایسا بد یہی ہے کہ سلسلہ کے مخالفوں تک نے اسے محسوس کیا ہے اور گو طبعا وہ ساری اندرونی کیفیات کو تو نہیں سمجھ سکے مگر انہوں نے اس بات کو ضرور محسوس کر لیا ہے کہ جماعت احمدیہ کی لاہوری پارٹی کا رجحان انہیں آہستہ آہستہ کس طرف لے جا رہا ہے چنانچہ مسٹر ایچ اے والٹر ایم اے سیکرٹری آل انڈیا ینگ مین کرسچن ایسوسی ایشن اپنی کتاب احمد یہ موومنٹ میں لکھتے ہیں :۔کی تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات یقینی طور پر ظاہر ہوتی ہے کہ اس