سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 277 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 277

۲۷۷ مضمون کی بحث بھی چونکہ او پرگزرچکی ہے اس لئے اس جگہ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔معراج کی حقیقت:۔مسلمانوں کا ایک کثیر حصہ یہ عقیدہ رکھتا تھا اور رکھتا ہے کہ آنحضرت ﷺ معراج کی رات اسی جسم عصری کے ساتھ آسمان پر تشریف لے گئے تھے اور وہاں سارے آسمانی طبقوں کی سیر کر کے زمین پر واپس تشریف لائے۔حضرت مسیح موعود نے اس خیال کی بھی تردید فرمائی صلى الله اور ثابت کیا کہ بے شک معراج برحق ہے اور آنحضرت آسمان پر ضرور تشریف لے گئے مگر آپ کا یہ صعود اس جسم عنصری کے ساتھ نہیں تھا بلکہ ایک نہایت لطیف قسم کا روحانی کشف تھا جس میں آپ کا جسم مبارک اس کرہ ارض سے جدا نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود نے قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر جانے کا خیال بالکل غلط اور خلاف واقعہ ہے چنانچہ قرآنی بیان کے علاوہ ایک صحیح حدیث میں بھی صراحت کے ساتھ ذکر آتا ہے کہ آسمانوں کی سیر کے بعد آنحضرت ﷺ نیند سے بیدار ہو گئے اور یہ بھی ذکر آتا ہے کہ معراج کی رات میں آنحضرت ﷺ کا جسم مبارک اپنی جگہ سے جدا نہیں ہوا۔حضرت مسیح موعود نے تشریح فرمائی کہ اس قسم کے خیالات کی طرف وہی لوگ جھکتے ہیں جو معجو بہ پسندی اور شعبدہ بازی کے شائق ہوتے ہیں حالانکہ اسلام کی غرض شعبدہ بازی نہیں بلکہ انسان کی اخلاقی اور روحانی اصلاح ہے۔بے شک لوگوں میں یقین پیدا کرنے کے لئے معجزات کی ضرورت پیش آتی ہے لیکن مجزات بھی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں اور بہر حال جس چیز کے متعلق قرآن شریف اور حدیث نے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے کہ وہ ایک اعلیٰ روحانی چیز تھی اسے خواہ نخواہ کھینچ کر مادی اور سفلی میدان میں لانے کی کوشش کرنا کسی طرح درست نہیں سمجھا جاسکتا۔آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ معراج کے کشف میں آئندہ کے لئے بعض نہایت لطیف پیشگوئیاں تھیں اور گویا تصویری زبان میں آنحضرت ﷺ کو اپنی اور اپنی امت کی آئندہ ترقیات کا نظارہ دکھایا گیا تھا مگر افسوس ہے کہ دنیا کے کو تہ بینوں نے اسے اس کے اعلیٰ اور اشرف مقام سے گرا کر محض ایک شعبدہ قرار دے دیا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں:۔