سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 261 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 261

۲۶۱ وسیع رحمت کے ماتحت ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جو اس کی اس رحمت سے محروم رہی ہو۔بے شک قرآن شریف نے اس حقیقت کو بیان کیا ہے اور مسلمان اس تعلیم پر اجمالی ایمان لاتے رہے ہیں۔مگر ان کی توجہ کبھی بھی اس مضمون کی تفصیلات کی طرف مبذول نہیں ہوئی اور نہ کبھی انہوں نے قرآن شریف کے بیان کردہ رسولوں کے سوا کسی اور قوم کے مذہبی پیشوا کی رسالت کو تصریحاً تسلیم کیا۔لیکن حضرت مسیح موعود نے قرآن شریف کے اس پیش کردہ اصول کو ایسی تفصیل اور تعیین کے ساتھ بیان کیا کہ گویا دنیا میں ایک نئی صداقت کا دروازہ کھل گیا اور بین الاقوام تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے ایک نہایت موثر خیال ہاتھ میں آ گیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود نے اس قرآنی آیت کو لے کر اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں رسول بھیجے ہیں تشریح اور تکرار کے ساتھ لکھا کہ جس طرح خدا تمام دنیا کی مادی ضروریات کو پورا فرماتا ہے اسی طرح وہ روحانی میدان میں بھی ہر قوم کی اصلاح اور کی طرف توجہ کرتا رہا ہے اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس میں کسی نہ کسی زمانہ میں خدا کی طرف سے کوئی نہ کوئی رسول نہ آیا ہو۔آپ نے لکھا کہ چونکہ خدا سارے ملکوں اور ساری قوموں کا ایک سا خدا ہے اس لئے اس نے کسی قوم کو بھی فراموش نہیں کیا اور ہر قوم کی طرف اپنے رسول بھیج کر اپنی عالمگیر خدائی اور وسیع رحمت کا ثبوت دیا ہے حضرت مسیح موعود نے اس اصول کو محض ایک فلسفہ تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ عملاً نام لے لے کر اعلان کیا کہ دنیا کی مختلف قوموں میں جو جو رسول یا اوتار یا مصلح گزرے ہیں وہ سب خدا کی طرف سے تھے اور ہم ان کی صداقت کے قائل ہیں اور ان کی اسی طرح عزت کرتے ہیں جس طرح ایک بچے رسول کی کرنی چاہئے۔آپ کے اس اعلان نے بین الاقوام تعلقات میں ایک انقلاب کی صورت پیدا کر دی اور جو قو میں اس سے پہلے رقیب اور مد مقابل کی صورت میں نظر آتی تھیں اب ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی باپ کی اولاد کے رنگ میں نظر آنے لگیں۔مگر اس اعلان کے ساتھ ہی حضرت مسیح موعود نے یہ تشریح فرمائی کہ دوسری قوموں کے مذہبی بانیوں کو مان لینے سے ہماری یہ مراد نہیں ہے کہ ہم ان کی اس تعلیم کو بھی مانتے ہیں جو آجکل ان کی