سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 241 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 241

۲۴۱ آنحضرت ﷺ نے اپنی متعدد احادیث میں نبی کے نام سے یاد کیا ہے۔مگر اس کی نبوت آنحضرت ﷺ کی نبوت کے تابع اور اسی کی ظل ہے نہ کہ آزاد اور مستقل نبوت۔(۵) یہ کہ ایسی نبوت کا دروازہ کھلا ماننے میں آنحضرت ﷺ کی ہتک نہیں بلکہ اس میں آپ کی شان کی بلندی کا اظہار ہے کیونکہ اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا مرتبہ اس قدر بلند اور ارفع ہے کہ آپ کے خادم نبوت کے مقام کو پہنچ سکتے ہیں اور یہ کہ آپ روحانی مملکت کے صرف بادشاہ ہی نہیں بلکہ شاہنشاہ اور بادشاہوں کے بادشاہ ہیں۔(1) اسی ذیل میں آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ گوموجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا یہ عام عقیدہ ہو رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروزہ کلی طور پر بند ہے مگر صحابہ کا یہ عقیدہ نہیں تھا اور صحابہ کے بعد بھی کئی مسلمان اولیاء اور بزرگ ایسے گزرے ہیں جو غیر تشریعی نبوت کے دروازہ کو کھلا مانتے رہے ہیں مثلاً حضرت محی الدین ابن عربی۔امام عبدالوہاب صاحب شعرانی۔حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی۔حضرت شیخ احمد صاحب سرہندی مجددالف ثانی۔علامہ محدث ملاعلی قاری۔امام محمد طاہر صاحب گجراتی و غیر هم نبوت کے دروازہ کو کلی طور پر بند خیال نہیں کرتے تھے۔(۷) آپ نے اپنے مخالفین کو ملزم کرنے کے لئے یہ بھی ثابت کیا کہ موجود الوقت مسلمانوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ موجود ہیں اور وہی آخری زمانہ میں دنیا میں نازل ہوں گے اس سے بھی آنحضرت کے بعد ایک گونہ نبوت کا دروازہ کھلا قرار پاتا ہے کیونکہ خواہ حضرت مسیح ناصری نے نبوت کا انعام آنحضرت ﷺ سے پہلے پایا تھا مگر جب ان کی دوسری آمد