سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 238 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 238

۲۳۸ صلى الله کے فیضان سے باہر ہو کر براہ راست نبوت کا انعام پایا ہے تو اس میں آنحضرت ﷺ اور اسلام کی کسر شان سمجھی جا سکتی تھی مگر جبکہ یہ دعوی ہی نہیں بلکہ دعوی صرف اس قدر ہے کہ مجھے خدا نے اسلا کی خدمت کے لئے اور آنحضرت ﷺ کے فیضان کی برکت سے اور آپ کی اتباع اور غلامی میں نبوت کا منصب عطا کیا ہے تو ہر دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ عقیدہ اسلام اور آنحضرت ﷺ کی شان کو بڑھانے والا ہے نہ کہ کم کرنے والا۔باقی رہا یہ اعتراض کہ قرآن وحدیث نے آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ کلی طور پر بند کیا ہے اس لئے خواہ اس میں اسلام کی عزت ہو یا ہتک ہم بہر حال اس عقیدہ کے پابند ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ ہرگز درست نہیں کہ قرآن وحدیث نبوت کے دروازہ کو من کل الوجوہ بند کرتے ہیں بلکہ غور کیا جاوے تو جو دلیلیں نبوت کے بند ہونے کی قرآن وحدیث سے دی جاتی ہیں وہی اسے کھلا ثابت کرتی ہیں۔مثلاً کہا جاتا ہے کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبین ، قرار دیا گیا ہے اور خاتم النبیین کے معنے آخری نبی کے ہیں اس لئے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔لیکن غور کیا جاوے تو اسی دلیل سے نبوت کا دروازہ کھلا ثابت ہوتا ہے وہ اس طرح که عربی لغت اور محاورہ کی رو سے ” خاتم النبین “ کے معنی آخری نبی کے ہر گز نہیں بلکہ نبیوں کی مہر کے ہیں کیونکہ خاتم کا لفظ جوت کی فتح سے ہے اس کے معنے عربی میں ایسی مہر کے ہوتے ہیں جو تصدیق وغیرہ کی غرض سے کسی دستاویز پر لگائی جاتی ہے پس نبیوں کی مہر سے یہ مراد ہوا کہ آئندہ کوئی شخص جس کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیقی مہر نہ ہو خدائی دربار سے کوئی روحانی انعام حاصل نہیں کر سکتا۔لیکن اگر یہ مہر سے حاصل ہو جائے تو عام انعامات تو در کنار نبوت کا انعام بھی انسان کومل سکتا ہے۔پس یہی آیت جسے غلط صورت دے کر نبوت کے دروازہ کو بند کرنے والا قرار دے لیا گیا ہے درحقیقت نبوت کے دروازہ کو کھول رہی ہے۔اسی طرح حدیث میں جو یہ الفاظ آتے ہیں کہ لا نَبِيَّ بَعْدِی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں