سلسلہ احمدیہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 230 of 457

سلسلہ احمدیہ — Page 230

۲۳۰ جماعت احمدیہ کے مخصوص عقائد اسلامی تعلیم کا مختصر ڈھانچہ درج کرنے کے بعد ہم ان مخصوص عقائد کا ذکر کرتے ہیں جو مقدس بانی نے دنیا کے سامنے پیش کئے۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے یہ عقائد اسلام سے خارج یا اس کے علاوہ نہیں ہیں بلکہ یہ سارے عقائد جو ہم اس جگہ بیان کریں گے اسلام ہی کے عقائد ہیں لیکن بوجہ اس کے کہ مسلمان انہیں بھلا چکے تھے حضرت مسیح موعود نے انہیں دوبارہ زندہ کر کے دنیا کے سامنے پیش کیا۔اسی طرح ان میں بعض عقائد ایسے ہیں کہ وہ قرآن شریف میں موجود تو تھے مگر چونکہ ابھی تک ان کے ظاہر ہونے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی اس لئے وہ آج تک ایک مخفی کان کی طرح نظروں سے اوجھل چلے آئے تھے لیکن اب آکر حضرت مسیح موعود کے ذریعہ ان کا اظہار اور انکشاف ہوا۔ہم اس جگہ ان سب عقائد کا تو ذکر نہیں کر سکتے جن پر حضرت مسیح موعود نے احمدیت کی بنیا د رکھی ہے البتہ بعض خاص خاص عقائد کو ہدیہ ناظرین کرتے ہیں اور انہیں بھی صرف اختصار کے ساتھ درج کیا جائے گا کیونکہ اصل بحث حضرت مسیح موعود کی کتب اور کے دوسرے مستند لٹریچر میں موجود ہے اور جو شخص چاہے آسانی کے ساتھ اصل ماخذ کا مطالعہ کرسکتا ہے۔احمدیت کے مخصوص عقائد کے بیان میں سب سے مقدم جگہ حضرت مسیح موعود کے دعاوی کو حاصل ہے کیونکہ احمدیت کی عمارت کی بنیاد انہی پر قائم ہے۔سوسب سے پہلے ہم انہی کو لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود " کا مجددیت کا دعوی :۔سب سے پہلا دعوئی جو حضرت مسیح موعود نے دنیا کے سامنے پیش کیا وہ مجددیت کا دعوی تھا۔جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں مقدس بانی اسلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ:۔ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجدّد لها دينها یعنی اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے ہر صدی کے سر پر ایک ایسا مصلح مبعوث کیا " ابوداؤد جلد ۲ صفحه ۲۴۱ (ابو داؤد كتاب الملاحم باب مايذكر في قدر قرن المائة)