سلسلہ احمدیہ — Page 216
۲۱۶ کمالات انسانی کی بلند ترین چوٹیوں تک پہنچ گئے اور ایک وحشی قوم کی بجائے ایک اعلیٰ درجہ کی با اخلاق اور باخدا قوم بن گئے اور علم و فضل میں بھی انہوں نے ایسی ترقی کی کہ وہ قوم جو چند سال پہلے جہالت میں ضرب المثل تھی اب ساری دنیا کی استاد بن گئی اور سیاسی لحاظ سے بھی عرب لوگ ایسے پھیلے کہ دنیا کے بیشتر حصہ پر چھا گئے اور یورپ کا بہت سا حصہ بھی اسلامی جھنڈے کے نیچے آ گیا۔یہی وہ زمانہ تھا کہ جب اہل یورپ نے مسلمانوں کے زیر اثر آکر اور ان کے تہذیب و تمدن اور لٹریچر سے متاثر ہوکر اپنی صدیوں کی نیند سے کروٹ بدلی اور جہالت اور تاریکی کو چھوڑ کر علم اور روشنی کا رستہ اختیار کیا۔چنانچہ یورپ کے تمام غیر متعصب مورخ اس بات کے معترف ہیں کہ ہماری بیداری کا بڑا باعث مسلمان ہوئے ہیں یہ مگر افسوس کہ اس کے بعد خود مسلمان اسلام کی تعلیم کو چھوڑ کر گرنا شروع ہو گئے حتی کہ آہستہ آہستہ وہ وقت آیا کہ وہ دنیا کی بڑی قوموں میں سب سے پست شمار ہونے لگے اور دین کے بگاڑ کے ساتھ ان کی دنیا بھی بگڑ گئی۔قرآن شریف : آنحضرت ﷺ کی تئیس سالہ نبوت کی زندگی میں جو کلام الہی آپ پر آہستہ آہستہ نازل ہوا اس کا نام قرآن شریف ہے اور یہی وہ مقدس صحیفہ ہے جو خدا کی آخری شریعت کا حامل ہے یہ ایک نہایت عجیب و غریب کتاب ہے اور گو اس کے سطحی معنی بالکل سادہ اور صاف ہیں مگر اس کی گہرائیوں میں جانے کے لئے بڑے غور و خوض اور گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے اور جو شخص اس کی گہرائیوں تک رستہ پالیتا ہے وہ ان معارف کے خزانوں کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے جو اس چھوٹی سی کتاب کے اندر مخفی ہیں لیکن اس کا صحیح اور گہرا علم حاصل کرنے کے لئے صرف ظاہری علم اور ظاہری کوشش ہی کافی نہیں بلکہ دل کی طہارت اور پاکیزگی بھی ضروری ہے کیونکہ قرآن ایک قدوس ہستی کا کلام ہے اور قدوس ہستی کے کلام کی سمجھ ایک نا پاک دل کو حاصل نہیں ہوسکتی۔اسلامی تعلیم کا اصل الاصول :۔قرآنی تعلیم کا خلاصہ چند لفظوں میں آجاتا ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں کہ:۔لے دیکھو ڈر پرلین وغیرہ